
علی گڑھ، 21 جولائی(ہ س)۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) علی گڑھ یونٹ نے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ انہدامی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے اتر پردیش کی گورنر کے نام ایک عرضداشت ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اے سی ایم پرتوش مشرا کو پیش کی۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی کے خلاف اس قسم کی کارروائی تعلیم اور ہزاروں طلبہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی، لہٰذا فوری مداخلت کرتے ہوئے مجوزہ کارروائی کو روکا جائے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے ضلع صدر یامین خان عباسی نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے خوابوں کی تعبیر کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کو منہدم کیا گیا تو تعلیمی شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا اور ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا۔ حکومت کو کسی بھی کارروائی سے قبل طلبہ کے مفاد اور تعلیم کی اہمیت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر یونیورسٹی کی کسی عمارت سے متعلق کوئی قانونی یا تکنیکی اعتراض ہے تو اس کا حل قانون کے دائرے میں نکالا جائے، لیکن پورے تعلیمی ادارے کو نقصان پہنچانے جیسی کارروائی سے گریز کیا جائے۔ تنظیم نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے مجوزہ انہدامی کارروائی پر روک لگائیں۔
اس موقع پرجنرل سیکیٹری انجینئر کنور ہاروں خاں، شہر صدر بندو خاں نیتاجی، محمد سلمان، محمد اسلم، شبّن، کیف، عبداللہ، رفیق، مبین، سلیم ، بی چوہان،عبداللہ، ابراہیم ،اکرم سمیت دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ