
تعلیم گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے: مولانا انیس الرحمن قاسمینئی دہلی، 21 جولائی(ہ س)۔ آل انڈیا ملّی کونسل کے کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے سلسلے میں حالیہ عدالتی فیصلے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خبر نے ملک کے کروڑوں انصاف پسند شہریوں، بالخصوص ملتِ اسلامیہ کے دلوں کو رنجیدہ کر دیا ہے۔ تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور سماجی ترقی کے مراکز ہوتے ہیں، اس لیے ان کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلہ نہایت دور اندیشی، انصاف اور وسیع تر قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی محض ایک عمارت یا ادارہ نہیں بلکہ جدید تعلیم کے فروغ اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو اعلیٰ تعلیم سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش کی علامت ہے۔ ایسے اداروں کو کمزور کرنے یا ان کے وجود کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے ملک میں تعلیمی فضا متاثر ہوگی اور نئی نسل کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور آئینی اداروں پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتی ہے، تاہم یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے معاملات میں تعلیمی، سماجی اور قومی مفاد کو بھی پوری سنجیدگی سے پیشِ نظر رکھا جائے گا۔ اگر کسی قسم کی قانونی یا انتظامی خامیاں موجود ہیں تو ان کا حل ادارے کو محفوظ رکھتے ہوئے قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ تعلیم کے چراغ بجھا کر۔مولانا انیس الرحمن قاسمی نے حکومتِ اتر پردیش اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ معاملے کو انتقام یا سیاسی اختلافات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے انصاف، اعتدال اور قومی مفاد کے اصولوں کی روشنی میں حل کریں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت مزید تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے، نہ کہ موجودہ اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگانے کی۔
انھوں نے ملت اسلامیہ اور ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ صبر، حکمت اور قانونی و جمہوری ذرائع کو اختیار کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ تعلیم کا تحفظ صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ آخر میں مولانا قاسمی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں انصاف، رواداری اور آئین کی بالادستی کو مضبوط فرمائے اور تمام تعلیمی اداروں کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ رکھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais