
اورنگ آباد، 21 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر فہرستوں کی جامع نظرثانی کے عمل کے لیے مقررہ آخری تاریخ 8 اگست 2026 میں کم از کم دو ماہ کی توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے سماجی تنظیموں کے ایک وفد نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے نام ایک تفصیلی یادداشت ضلعی انتظامیہ کے ذریعے پیش کی ہے۔ وفد کا کہنا ہے کہ موجودہ مدت میں ریاست کے تمام اہل ووٹروں تک اس عمل کو مؤثر انداز میں پہنچانا ممکن نہیں۔ یہ یادداشت ڈپٹی ضلع الیکشن آفیسر سشیلا پالوے کے حوالے کی گئی۔ وفد میں موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیئر کے ضلع صدر شیخ محسن، شہر صدر شیخ مختار، عادل مدنی، شیخ بشیر، سریش پوار، لکشمن نیروٹی گروخیل، انیل گپتا، ڈاکٹر سلمان مکرم، فیضان قاضی، جواد قادری، مخدومی حسام الدین، عبد القیوم اور فہیم ملک شامل تھے۔یادداشت میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 12 کروڑ آبادی والی ریاست مہاراشٹر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی جیسے وسیع عمل کو موجودہ مدت کے اندر مکمل کرنا عملی طور پر نہایت مشکل ہے۔ وفد کے مطابق اس وقت خریف فصل کی بوائی اپنے عروج پر ہے، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں کسان اپنے زرعی کاموں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب آشاڑھی واری اور دیگر مذہبی تقریبات کے باعث ہزاروں افراد اپنے معمول کے مقامات سے باہر ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد اہل ووٹر اس عمل میں بروقت حصہ لینے سے محروم رہ سکتے ہیں۔وفد نے یادداشت میں نشاندہی کی کہ ریاست کے کئی علاقوں میں پری ایس آئی آر میپنگ کا مرحلہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس کے علاوہ بوتھ لیول افسران پر متعدد اضافی ذمہ داریاں ہونے کے باعث وہ مطلوبہ رفتار سے کام انجام نہیں دے پا رہے ہیں۔ آن لائن اندراج کے نظام میں بھی مختلف تکنیکی خرابیاں سامنے آ رہی ہیں، جس سے درخواستوں کی تکمیل اور ووٹروں کی رجسٹریشن کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔وفد نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ خصوصی نظرثانی کی مدت میں کم از کم دو ماہ کا اضافہ کیا جائے تاکہ ہر اہل شہری کو اپنی معلومات درست کرانے اور اندراج مکمل کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔ اس کے ساتھ بوتھ لیول افسران کو اضافی افرادی قوت اور ضروری سہولتیں فراہم کرنے، ہر گھر تک درخواست فارم پہنچانے، ریاست بھر میں وسیع عوامی بیداری مہم چلانے، مراٹھی سمیت مقامی زبانوں میں رہنما معلومات اور ویڈیوز جاری کرنے اور آن لائن نظام کی تکنیکی خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔یادداشت میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں مہاراشٹر میں کوئی فوری انتخاب طے نہیں ہے، اس لیے ایس آئی آر کی مدت میں توسیع دینے سے انتخابی عمل متاثر ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔ وفد نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن تمام زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ کرے گا جس سے ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور انتخابی عمل مزید شفاف، جامع اور منصفانہ بن سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے