
نئی دہلی، 20 جولائی (ہس): صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے اپنے تین ملکوں کے سرکاری دورے کے پہلے مرحلے میں پیر کو مالدووا کے دارالحکومت کیشیناومیں صدر مایا ساندو کے ساتھ دو طرفہ اور وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماو¿ں نے زراعت، صحت، دواسازی، قابل تجدید توانائی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت (اے آئی)،اختراع ، لاجسٹکس اوربنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ صدرجمہوریہ مرمو اتوار کوکیشیناو پہنچیں۔ ان کے ساتھ صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی مرکزی وزیر مملکت نیموبین جینتی بھائی بمبھانیہ، راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر دنیش شرما اور لوک سبھا کے رکن وجے بگھیل بھی موجود تھے۔ ان کا استقبال مالدووا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ میہائی پاپشوئی نے کیشیناو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیا۔
بعد ازاں، صدر جمہوریہ مرمو مالدووا کے صدارتی محل پہنچیں جہاں مالدووا کی صدر مایا ساندو نے ان کا باقاعدہ استقبال کیا۔ انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس کے بعد، دونوں رہنماو¿ں نے براہ راست ملاقات کی اور وفود کی سطح پر بات چیت کی، جس کے دوران دو طرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوو¿ں پر جامع اور مستقبل کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
صدر جمہوریہ مرمو نے کہا کہ کسی ہندوستانی صدر جمہوریہ کا مالدووا کا پہلا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ ہندوستان اور مالدووا کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی اور باہمی اعتماد کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی فاصلے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے خوشگوار تعلقات رہے ہیں اور امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی مشترکہ اقدار نے اس شراکت داری کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے، رابطوں کو بڑھانے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر جمہوریہ مرمو نے انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی) پروگرام کے تحت مالدووا کے پیشہ ور افراد کے لیے تربیتی نشستوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں اے آئی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر خصوصی کورسز شامل ہوں گے۔ انہوں نے مالدووا کے سفارت کاروں کو ہندوستان کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں اے آئی اور سائبر ڈپلومیسی کے خصوصی کورسز میں شرکت کے لئے بھی مدعو کیا۔
ہندوستھان سماچار
------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد