
ممبئی ، 18 جولائی (ہ س): بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی چیف ترجمان نو ناتھ بان نے شیو سینا یو بی ٹی کے رکن راجیہ سبھا سنجے راؤت اور پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی خواہش ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس رام رکشا آندولن میں شریک ہوں تو پہلے سنجے راؤت اور ادھو ٹھاکرے خود کم از کم رام رکشا کے دو دو شلوک کتاب دیکھ کر ہی سہی، پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بابری ڈھانچہ گرائے جانے کے دوران دیویندر فڈنویس ابتدا ہی سے رام مندر تحریک کا حصہ تھے اور اس تحریک میں حصہ لینے کے باعث انہیں 14 دن تک جیل میں بھی رہنا پڑا تھا۔
نو ناتھ بان نے سوال اٹھایا کہ اس وقت سنجے راؤت کہاں تھے، جبکہ ادھو ٹھاکرے ماتوشری میں کیمروں کی صفائی کر رہے تھے اور سنجے راؤت مضامین لکھنے میں مصروف تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنجے راؤت اور ادھو ٹھاکرے کا رام مندر تحریک سے کوئی تعلق نہیں رہا اور مہاراشٹر و ملک کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھگوان رام کے سب سے بڑے مخالف کون رہے ہیں۔
نو ناتھ بان نے سنجے راؤت کے اس دعوے کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ ادھو ٹھاکرے کی تحریک کے باعث سونم وانگچک کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مہاراشٹر کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ سنجے راؤت نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بھی ادھو ٹھاکرے کی تحریک کو شہرت سے محروم رکھنے کے لیے بی جے پی نے شروع کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے عوام سنجے راؤت کی ڈرامہ بازی سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سے اپیل کی کہ وہ ہندوتوا کی علامت سمجھے جانے والے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صدر مقام ناگپور جا کر ہندوتوا کے ساتھ مبینہ غداری پر معافی مانگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھو ٹھاکرے اگر ناگپور میں سنگھ بھومی پر ناک رگڑ کر معافی طلب کریں گے تو ہی ہندو سماج انہیں معاف کر سکے گا۔
بی جے پی ترجمان نے مزید کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی موجودہ رام رکشا تحریک دراصل رام رکشا نہیں بلکہ اپنی پارٹی، ارکان اسمبلی اور کارپوریٹروں کو بچانے کی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام میں ادھو ٹھاکرے کی مقبولیت اور ہمدردی ختم ہو چکی ہے، پارٹی کارکن، ارکان اسمبلی اور کارپوریٹر مسلسل انہیں چھوڑ رہے ہیں، اسی لیے اب انہیں بھگوان رام کی یاد آ رہی ہے، تاہم اس سیاسی حکمت عملی سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
نو ناتھ بان نے یہ بھی کہا کہ ادھو ٹھاکرے کانگریس کے دباؤ میں رام للا کی پران پرتشٹھا تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ادھو ٹھاکرے اس سماجوادی پارٹی کے ساتھ انڈیا اتحاد میں شامل ہیں، جس پر رام بھکتوں پر گولیاں چلانے اور ان کے خون سے ہاتھ رنگنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھو ٹھاکرے پہلے انڈیا اتحاد سے علیحدگی اختیار کریں، اس کے بعد ناگپور میں کوئی تحریک چلائیں۔ اس سے پہلے نہ سنجے راؤت اور نہ ہی ادھو ٹھاکرے کو رام رکشا پڑھنے یا خود کو ہندوتوا کا علمبردار کہنے کا کوئی حق حاصل ہے۔
نو ناتھ بان نے آخر میں کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو مہاراشٹر کے 14 کروڑ عوام کی دعائیں اور حمایت حاصل ہے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کی قیادت کے لیے پوری طرح اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت کتنی ہی سیاسی چالیں چلیں یا سخت زبان استعمال کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے کہاوت ہے کہ کوّے کے بددعا دینے سے گائے نہیں مرتی، اسی طرح سنجے راؤت کے بیانات سے بھی دیویندر فڈنویس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور مہاراشٹر آئندہ بھی مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے