دہلی میں پانی جمع ہونے کے 80 سے 90 فیصد مسئلے کا حل ہو چکا ہے: پرویش صاحب سنگھ
نئی دہلی، 18 جولائی (ہ س)۔ دہلی کے وزیر تعمیرات عامہ و آبی وسائل پرویش صاحب سنگھ نے کہا ہے کہ راجدھانی میں پانی جمع ہونے کے تقریباً 80 سے 90 فیصد مسئلے کا حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ مندروں میں جا کر دعا کرتے تھے کہ بارش نہ
دہلی میں پانی جمع ہونے کے 80 سے 90 فیصد مسئلے کا حل ہو چکا ہے: پرویش صاحب سنگھ


نئی دہلی، 18 جولائی (ہ س)۔ دہلی کے وزیر تعمیرات عامہ و آبی وسائل پرویش صاحب سنگھ نے کہا ہے کہ راجدھانی میں پانی جمع ہونے کے تقریباً 80 سے 90 فیصد مسئلے کا حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ مندروں میں جا کر دعا کرتے تھے کہ بارش نہ ہو، کیونکہ پورے شہر میں پانی بھر جانے کا خوف رہتا تھا۔ آج ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ اچھی بارش کی دعا کیجیے۔ انہوں نے یہ باتیں دہلی حکومت کی سرکار آپ کے دوار مہم کے تحت ہفتہ کے روز مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں کے دورے کے دوران کہیں۔

اس دورے میں وزیر پرویش صاحب سنگھ کے ساتھ لکشمی نگر کے رکن اسمبلی ابھیے ورما، پٹپڑگنج کے رکن اسمبلی رویندر سنگھ نیگی، تریلوک پوری کے رکن اسمبلی روی کانت، شاہدرہ کے رکن اسمبلی سنجے گوئل، سینئر افسران اور انجینئر بھی موجود تھے۔

وزیر نے مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا، مقامی شہریوں سے بات چیت کی اور برسوں سے زیر التوا شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے کیے جا رہے کاموں کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے پٹپڑگنج ہائی وے اور جھلمِل انڈر پاس کا بھی معائنہ کیا، جو طویل عرصے سے مانسون کے دوران پانی جمع ہونے کے اہم مقامات کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔ اس موقع پر پرویش صاحب سنگھ نے کہا کہ منٹو برج کے بعد اگر دہلی میں کسی مقام کی تصاویر اور ویڈیوز ہر بارش میں سب سے زیادہ منظر عام پر آتی تھیں تو وہ پٹپڑگنج کا یہی علاقہ تھا، جہاں پانی میں ڈوبی ہوئی بسوں کی تصاویر عام منظر بن چکی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ منظم منصوبہ بندی، مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل اور مسلسل نگرانی کے باعث آج یہاں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ معائنے کے دوران انہوں نے نکاسیٔ آب کے نظام، نالوں کی صفائی اور پانی جمع ہونے کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے کیے گئے مختلف انجینئرنگ اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔

وزیر نے کہا کہ گزشتہ 10، 15 بلکہ 20 برسوں سے زیر التوا ترقیاتی منصوبوں کو اب محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی)، دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی)، محکمہ آبپاشی و سیلاب کنٹرول اور دیگر انجینئرنگ ایجنسیاں مشن موڈ میں تیزی سے مکمل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی میں مقامی ارکان اسمبلی کا بھی اہم کردار ہے، جو مسلسل عوامی مسائل اور تجاویز حکومت تک پہنچا رہے ہیں۔

وزیر نے اعلان کیا کہ لکشمی نگر کے مصروف چوراہے پر جلد ہی ایک جدید اسکائی واک تعمیر کیا جائے گا، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت میں اضافہ ہوگا اور ٹریفک کا نظام مزید بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی او کی طرز پر نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ جدید اور بہتر اسکائی واک لکشمی نگر میں تعمیر کیا جائے گا، جسے مشرقی دہلی کے عوام کے نام وقف کیا جائے گا۔

معائنے کے دوران مختلف ارکان اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں میں پری کاسٹ اسٹورم واٹر ڈرین کی تعمیر کی ضرورت بھی پیش کی۔ اس پر وزیر نے کہا کہ دہلی حکومت پانی نکالنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پری کاسٹ ڈرین ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کم وقت میں بہتر معیار کے ساتھ تعمیراتی کام مکمل کرنے اور بارش کے پانی کی مؤثر نکاسی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مقامی شہریوں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مستقل حل کے سلسلے میں حکومت کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande