مدھیہ پردیش میں کم بارش سے زرعی بحران سنگین، وزیراعلیٰ فوری راحت پیکیج کا اعلان کریں: جیتو پٹواری
بھوپال، 18 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صوبائی صدر جیتو پٹواری نے ریاست میں معمول سے کم بارش اور مانسون کے طویل وقفے سے پیدا ہونے والے زرعی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے کسانوں کے مفاد میں فوری
جیتو پٹواری کا خط


ایم پی: کانگریس ریاستی صدر جیتو پٹواری (فائل فوٹو)


بھوپال، 18 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صوبائی صدر جیتو پٹواری نے ریاست میں معمول سے کم بارش اور مانسون کے طویل وقفے سے پیدا ہونے والے زرعی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے کسانوں کے مفاد میں فوری موثر فیصلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر کہا کہ ریاست کے کئی اضلاع میں خریف کی فصلیں بحران میں ہیں اور حکومت کو بنا تاخیر کیے راحت کے اقدامات نافذ کرنے چاہئیں۔

جیتو پٹواری نے ہفتے کے روز لکھے اپنے خط میں بتایا کہ ریاست میں اب تک معمول سے تقریباً 15 فیصد کم بارش درج کی گئی ہے۔ وہیں، 55 میں سے 28 اضلاع میں معمول سے 16 سے 78 فیصد تک کم بارش ہوئی ہے۔ علی راج پور، ریوا، مئو گنج، سیدھی، سنگرولی، منڈلا، شہڈول، ساگر، رائسین، شیوپوری اور جبل پور سمیت کئی اضلاع میں حالات لگاتار سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں بوائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ پہلے سے بوئی گئی فصلیں سوکھنے لگی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریوا ڈویژن میں دھان کی صرف 41 فیصد بوائی ہو سکی ہے۔ نرمدا پورم میں تقریباً 38 فیصد کھیت اب بھی خالی ہیں اور دھان کی صرف 62 فیصد بوائی ہوئی ہے۔ رائسین ضلع میں 2.80 لاکھ ہیکٹر ہدف کے مقابلے محض 65 ہزار ہیکٹر میں ہی دھان کی روپائی ہو سکی ہے۔ وہیں مرینا میں 11 جولائی کے بعد بارش نہیں ہونے سے باجرہ سمیت دیگر خریف کی فصلوں کو 30 سے 40 فیصد تک نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جبل پور، ستنا، مہر اور علی راج پور سمیت کئی اضلاع میں دھان، مکہ، کپاس اور سویا بین کی فصلیں بھی بحران میں ہیں۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ اضلاع میں خصوصی گرداوری کرا کر فصل کے اصل نقصان کا تخمینہ لگایا جائے۔ متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو دوبارہ بوائی کے لیے مالی امداد اورمفت بیج دستیاب کرائے جائیں۔ ڈیزل، بجلی اورآبپاشی کے لیے خصوصی راحت پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ وزیرِ اعظم فصل بیمہ اسکیم کے تحت فوری سروے کر کے کسانوں کو جلد معاوضہ دلایا جائے۔ فصل سوکھنے کے اندیشے والے علاقوں میں فوری ہنگامی واٹر مینجمنٹ پلان نافذ کیا جائے۔ زراعت، ریونیو اور محکمۂ موسمیات کی مشترکہ ضلعی سطحی نگرانی کمیٹیاں بنا کر روزانہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔

پی سی سی چیف پٹواری نے کہا کہ کسان ہر بار قدرتی آفات سے نبرد آزما ہوتا ہے، لیکن جب حکومت بھی حساسیت نہیں دکھاتی تو اس کا بھروسہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں صرف کاغذی اسکیموں کی نہیں، بلکہ فوری اور موثر فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے گزارش کی کہ وہ اس بحران کو صرف اعداد و شمار تک محدود نہ رکھیں، بلکہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے کسانوں کو یہ بھروسہ دلائیں کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande