
رانچی، 18 جولائی (ہ س)۔
رانچی کے راتو تھانہ علاقے میں واقع چٹک پور شانتی نگر پوکھر ٹولہ میں ہفتہ کی صبح ایک ماں اور اس کے معصوم بیٹے کی لاشیں کرائے کے مکان سے برآمد ہوئیں۔ خاندان کی 4 سالہ بیٹی اور 15 سالہ نند تشویشناک حالت میں پائی گئیں۔ دونوں زخمیوں کو ابتدائی طور پر سیوا سدن میں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جہاں سے ان کی حالت خراب ہونے پر انہیں راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ریمس) ریفر کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت 32 سالہ پنکی دیوی اور اس کے ڈھائی سالہ بیٹے شراون کمار کے طور پر کی گئی ہے۔ زخمیوں میں پنکی کی 15 سالہ نند چندا کماری اور چار سالہ بیٹی پراچی کماری شامل ہیں۔ دونوں ریمس میں زیر علاج ہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق ہفتے کی صبح گھر کا دروازہ کافی دیر تک نہ کھلا تو انہیں شک ہوا۔ صبح 5 بجے کے قریب پڑوسیوں نے ایسبیسٹس کی چادر ہٹائی اور گھر میں داخل ہوئے۔ اندر کے منظر نے سب کو دنگ کر دیا۔ پنکی دیوی اور اس کے بیٹے کی لاشیں کمرے میں پڑی ہوئی تھیں، جبکہ چندا کماری اور پراچی کماری بے ہوش اور نازک حالت میں فرش پر پائی گئیں۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی راتو پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور دونوں لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ زخمیوں کو فوری طور پراسپتال لے جایا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں دم گھٹنے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس کمرے میں چار افراد سو رہے تھے وہاں کوئلے کا چولہا پڑا تھا۔ شبہ ہے کہ چولہے سے نکلنے والا دھواں یا زہریلی گیس حادثہ کا سبب بنی ہو گی۔ تاہم پولیس نے واضح کیا کہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سائنسی تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔
راتو پولس اسٹیشن کے انچارج ادیکانت مہتو نے بتایا کہ اس واقعہ میں دو لوگوں کی موت ہوگئی، جب کہ دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھ کر تفتیش کی جا رہی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ