
بیڑ، 18 جولائی (ہ س): ریاستی حکومت نے گرام پنچایتوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈ جاری کرنے سے قبل متعلقہ گاؤں میں شمشان بھومی کی موجودگی کو لازمی قرار دیا ہے۔ دیہی علاقوں میں شمشان بھومی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو کھلے میدانوں میں آخری رسومات ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس کے پیش نظر محکمہ دیہی ترقی نے گاؤں تِتھے شمشان بھومی کے تصور پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نئے حکمنامے کے مطابق جن دیہات میں شمشان بھومی یا آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے شیڈ موجود نہیں ہوگا، وہاں دیگر ترقیاتی منصوبوں کو منظوری یا فنڈ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیڑ ضلع کی 1034 گرام پنچایتوں میں سے 473 دیہات ایسے ہیں جہاں اب تک شمشان بھومی کے لیے شیڈ دستیاب نہیں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بیڑ تعلقہ میں سب سے زیادہ 106 دیہات شمشان بھومی کی سہولت سے محروم ہیں۔ اس کے بعد آشتی تعلقہ کے 71، کیج تعلقہ کے 50، جبکہ پاٹوڈا اور شرور تعلقوں کے 45، 45 دیہات میں بھی یہ بنیادی سہولت موجود نہیں ہے۔ اسی طرح ماجلگاؤں تعلقہ کے 39، گیورائی کے 26، دھارور کے 25، وڈوانی کے 24 اور پرلی تعلقہ کے 21 دیہات اب بھی شمشان بھومی کے منتظر ہیں۔ امباجوگائی تعلقہ کے 13 دیہات میں بھی یہ سہولت موجود نہیں، جس کے باعث بالخصوص برسات کے موسم میں لوگوں کو کھلے مقامات پر آخری رسومات ادا کرنی پڑتی ہیں۔
حکام کے مطابق زمین کی عدم دستیابی اور مقامی تنازعات کی وجہ سے متعدد مقامات پر شمشان بھومی کی تعمیر کا کام برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔ تاہم ضلع پریشد کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو آفیسر کشور کالے نے اب عوامی سہولت اسکیم کے تحت ان منصوبوں کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو امید ہے کہ اس فیصلے کے مؤثر نفاذ سے دیہی علاقوں کے ایک نہایت حساس اور سماجی مسئلے کا مستقل حل نکل سکے گا اور آئندہ کسی بھی گاؤں کے شہریوں کو شمشان بھومی نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے