وردھا میں نقلی سویا بین بیجوں کے معاملے میں 333 کسانوں کی شکایات درج
وردھا میں نقلی سویا بین بیجوں کے معاملے میں 333 کسانوں کی شکایات درج۔ حکومت کے مفت بیجوں کے اعلان پر تحریری حکم نامہ تاحال جاری نہیںوردھا، 18 جولائی (ہ س)۔ ضلع میں غیر معیاری اور نقلی سویا بین بیجوں سے متاثرہ کسانوں کے لیے حکومت نے مفت بیج فراہم
AGRICULTURE MAHA BOGUS SOYBEAN SEEDS


وردھا میں نقلی سویا بین بیجوں کے معاملے میں 333 کسانوں کی شکایات درج۔ حکومت کے مفت بیجوں کے اعلان پر تحریری حکم نامہ تاحال جاری نہیںوردھا، 18 جولائی (ہ س)۔ ضلع میں غیر معیاری اور نقلی سویا بین بیجوں سے متاثرہ کسانوں کے لیے حکومت نے مفت بیج فراہم کرنے کا اعلان تو کیا ہے، لیکن اس سلسلے میں تاحال کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہ ہونے کے باعث محکمہ زراعت تذبذب کا شکار ہے۔ ضلع بھر میں اب تک نقلی بیجوں کے معاملے میں 333 سے زائد کسان اپنی شکایات درج کرا چکے ہیں، جبکہ متاثرہ کسانوں کو دوبارہ بوائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ کسانوں کو مفت بیج فراہم کرے تاکہ انہیں مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔رواں سال بروقت بارش ہونے کے بعد بڑی تعداد میں کسانوں نے سویا بین کی بوائی کی تھی، تاہم متعدد علاقوں میں بیجوں کی مناسب نشوونما نہ ہونے کے باعث کسانوں کی پہلی بوائی ناکام ثابت ہوئی۔ پہلی بوائی پر ہونے والا خرچ ضائع ہو گیا اور اب کسانوں کو دوبارہ بیج خریدنے، زمین تیار کرنے اور مزدوری پر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔دیولی پنچایت سمیتی کے دائرے میں نقلی اور غیر معیاری بیجوں کا معاملہ سب سے زیادہ سنگین قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ محکمہ زراعت نے ضلع کے 17 مختلف مقامات سے بیجوں کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں جانچ کرائی، جس میں یہ بیج غیر معیاری ثابت ہوئے۔ اس کے بعد متعلقہ بیج تیار کرنے والی کمپنیوں اور فروخت کنندگان کے خلاف کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آئندہ چند دنوں میں ضلع میں بارش ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ اسی لیے متاثرہ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ دوبارہ بوائی کے لیے موزوں وقت ضائع ہونے سے پہلے انہیں فوری طور پر مفت بیج فراہم کیے جائیں۔ زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیجوں کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوئی تو اس کا براہ راست اثر پیداوار پر پڑے گا۔حکومت کی جانب سے دوبارہ بوائی کرنے والے کسانوں کو مفت بیج دینے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم محکمہ زراعت کے مطابق اس سلسلے میں اب تک کوئی باضابطہ تحریری حکم موصول نہیں ہوا ہے۔ اسی وجہ سے محکمہ عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ فی الحال محکمہ زراعت کو موصول ہونے والی تمام شکایات کی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ صرف اعلانات اور یقین دہانیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ فوری طور پر مفت بیج فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ضلع میں کپاس کے بعد سب سے زیادہ رقبے پر سویا بین کی کاشت کی گئی ہے، لیکن نقلی بیجوں کے باعث بڑی تعداد میں کسان دوبارہ بوائی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ درج شدہ شکایات کے مطابق ضلع میں تقریباً 489 ہیکٹر اراضی پر دوبارہ بوائی کی نوبت آ چکی ہے، جس سے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande