سانبہ میں بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع گھگوال کے جرائن گاؤں میں ایک زرعی کھیت سے مشتبہ سرنگ برآمد
جموں, 15 جولائی (ہ س): جموں و کشمیر کے ضلع سانبہ میں بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع گھگوال کے جرائن گاؤں میں ایک زرعی کھیت سے مشتبہ سرنگ ملنے کے بعد بدھ کو فوج، بی ایس ایف اور پولیس نے مشترکہ تلاشی مہم شروع کی۔ ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
Hole


جموں, 15 جولائی (ہ س): جموں و کشمیر کے ضلع سانبہ میں بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع گھگوال کے جرائن گاؤں میں ایک زرعی کھیت سے مشتبہ سرنگ ملنے کے بعد بدھ کو فوج، بی ایس ایف اور پولیس نے مشترکہ تلاشی مہم شروع کی۔ ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ سرنگ سرحد پار سے دراندازی کے لیے استعمال ہونے والی کسی زیرِ زمین سرنگ کا حصہ ہو سکتا ہے، تاہم تفصیلی جانچ کے بعد یہ خدشہ بے بنیاد ثابت ہوا۔

سرکاری حکام کے مطابق اطلاع ملتے ہی سیکورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور ماہرین کی نگرانی میں مشتبہ مقام کی باریک بینی سے جانچ اور کھدائی کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہاں کسی زیرِ زمین سرنگ کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔حکام نے بتایا کہ مکمل جانچ کے بعد واضح ہوا کہ مذکورہ مقام پر صرف ایک عام سوراخ تھا اور وہاں کسی قسم کی سرنگ یا سرحد پار دراندازی کے راستے کے شواہد نہیں ملے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سرحد کے راستے دراندازی کے لیے سرنگیں کھودنے کی کئی کوششیں سامنے آ چکی ہیں، اسی لیے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت رکھی گئی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد پر ممکنہ زیرِ زمین سرنگوں کی تلاش اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انسدادِ سرنگ مہم چلائی تھی۔ حکام کے مطابق 2011 سے 2021 کے دوران جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں تقریباً ایک درجن سرحد پار سرنگیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande