
نئی دہلی،15جولائی(ہ س)۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نوم چومسکی کمپلیکس میں واقع اردو اکیڈمی کے لائبریری کم کمیٹی روم میں، NIScPR CSIR-کی پاپولر سائنس کی کتابوں کے اردو ترجمے پر نظرِ ثانی اور حتمی شکل دینے سے متعلق ہفت روزہ ورکشاپ آج اختتام پذیر ہوئی۔آٹھ جولائی تا پندرہ جولائی دوہزار چھبیس اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد NIScPR CSIR- کے پاپولر سائنس کی کتابوں کے اردو ترجمے کی درستگی اور انہیں حتمی شکل دینا تھا۔ ورکشاپ کے دوران جن سائنسی کتابوں کو حتمی شکل دی گئی، ان کے عنوانات اس طرح ہیں: ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ از ڈی ۔کے ۔پاوتے، ’ان سائیڈ ایٹمز‘ از ایل۔ایس۔ کوٹھاری اور ایچ پی تیواری ، ’مائننگ دی اوشنز پی۔ کے۔ ایس۔ مورتی، وی جی کلکرنی، آر این بھاگوت، ’ڈوئنگ سائنس اِز فن‘ از وی جی گھمبھیر اور ’لائف اِن دی یونیورس‘ ایم۔ ایس۔ چڈھا اور بال پھونڈکے۔
اکادمی برائے فروغ استعداداردو میڈیم اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے قومی ترجمہ مشن،(این ٹی ایم) سی آئی آئی ایل ،وزارتِ تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم، حکومتِ ہند میسور کے اشتراک سے ہفت روزہ ورکشاپ کے انعقاد کی منظوری اور ہر ممکن تعاون دینے کے لیے عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور عالی وقارمسجل جناب پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔ اکادمی کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر جسیم احمد نے پروگرام کے آغاز میں ورکشاپ کے خصوصی ماہرین اور ورکشاپ کے کوآرڈی نیٹرس ڈاکٹر محمد نوشاد عالم ،قومی ترجمہ مشن، سی آئی آئی ایل، میسور اور ورکشاپ کے مقامی کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر نوشاد عالم ،مترجم، اکادمی برائے فروغ استعداداردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کا خیرمقدم کیا۔
پروفیسر احمد نے اس نوع کے منفرد ورکشاپ کی اہمیت اجاگر کی جن میں بچوں کی دلچسپی اور تجسس کو مدنظر رکھا جاتا ہو نیز جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بچوں پر مرکوز کتابوں کو حتمی شکل دی جاتی ہو۔ انھوں نے نوجوان صلاحیتوں کی آبیاری کے لیے ایسی کتابوں میں مرموز اقدار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی علمی کاوشیں قارئین کو قابلِ اعتماد اور مستند مواد فراہم کرنے کے ہمارے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں، تاکہ وہ اچھے انسان اور ملک کے ذمہ دار شہری بن سکیں۔ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس کی صدارت، پروفیسر شعیب عبداللہ(سبکدوش) شعبہ¿ تعلیمات،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے فرمائی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ’’ ماہرین خصوصی کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری انتہائی خلوص سے سرانجام دیں تاکہ کتابوں کو اشاعت کے لیے بھیجنے سے قبل انھیں ہر قسم کی غلطیوں سے پاک کیا جاسکے۔ چونکہ یہ ورکشاپ پاپولرسائنس کی کتابوں کے اردو ترجمے کا جائزہ لینے اور انہیں حتمی شکل دینے کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی ہے، اس لیے دیے گئے متون کا مطالعہ کرتے وقت خصوصی احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے تراجم میں در آئی خامیوں کو دور کرنے کے سلسلے میں متعدد اہم نکات بھی بتائے۔‘‘ایک ہفتے پر محیط اس ورکشاپ کے کوآرڈی نیٹر، ڈاکٹر محمد نوشاد عالم نے تمام ماہرین کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے این ٹی ایم ،میسور کے 2008 میںقیام کے بعد سے اب تک کی اس کی نمایاں کامیابیوں سے متعلق ایک مختصر پریزنٹیشن دیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس مشن کا وژن لسانی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے علم کی سب تک رسائی اور ایک 'علمی معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ انھوں نے اس موقع پر وسیع تر فوائد کے پیش نظر ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں میں مستند مواد کی فراہمی کے لیے قومی ترجمہ مشن (این ٹی ایم )کی جانب سے کیے گئے متعدد اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ورکشاپ کے دوران، ماہرین نے مجموعی مباحثوں اور موضوعاتی گروپ، دونوں میں حصہ لیا، جس کے طفیل مواد پر تعمیری بحث اور خیالات کا لین دین ممکن ہوسکا۔ اس باہمی اشتراکی عمل نے موجودہ مواد کے جائزے میں سہولت فراہم کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کتابیں مزید درست اور مستند تیار ہو سکیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais