مجھگاؤں میں دو طبقوں کے درمیان جھڑپ، چار افراد زخمی
مغربی سنگھ بھوم، 15 جولائی (ہ س): ضلع کے مجھگاؤں تھانہ علاقے کے پانڈوکی گاؤں میں دو طبقوں کے درمیان جھڑپ کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ منگل کو ہونے والی مارپیٹ میں چار افراد زخمی ہو گئے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر علاج کے لیے چائباسہ صدر اس
مجھگاؤں میں دو طبقوں کے درمیان جھڑپ، چار افراد زخمی


مغربی سنگھ بھوم، 15 جولائی (ہ س): ضلع کے مجھگاؤں تھانہ علاقے کے پانڈوکی گاؤں میں دو طبقوں کے درمیان جھڑپ کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ منگل کو ہونے والی مارپیٹ میں چار افراد زخمی ہو گئے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر علاج کے لیے چائباسہ صدر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بدھ کے روز سابق وزیر اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف بابولال مرانڈی اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور پولیس انتظامیہ سے معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

زخمیوں کے مطابق تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گاؤں کے ایک قبائلی مذہبی مقام پر بعض افراد کی جانب سے نشہ کرنے کی مخالفت کی گئی۔ اس سلسلے میں کچھ لوگ شکایت لے کر مقامی اسکول کے پرنسپل سے ملنے گئے تھے، جہاں اس وقت خصوصی ووٹر نظرثانی (ایس آئی آر) کا عمل جاری تھا۔ اسی دوران تیز بارش شروع ہونے پر سب لوگ وہیں رک گئے۔

بارش رکنے کے بعد وہ قریب ہی ایک گول گپے کے ٹھیلے پر پہنچے، جہاں مبینہ طور پر دوسرے برادری کے چند افراد سے تلخ کلامی ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فریقوں کے اہل خانہ اور دیگر لوگ بھی موقع پر پہنچ گئے اور معمولی جھگڑا پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔

اس جھڑپ میں پردیپ کمار ہیمبرم، راج کمار بیرووا، پردیپ بیرووا سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کا علاج اس وقت چائباسہ صدر اسپتال میں جاری ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی بابولال مرانڈی اسپتال پہنچے۔ ان کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ مدھو کوڑا، سابق وزیر بڑکنور گاگرائی، سابق رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی کی ریاستی نائب صدر گیتا کوڑا، بی جے پی کے سینئر رہنما جے بی توبید سمیت پارٹی کے کئی رہنما اور کارکن بھی موجود تھے۔

زخمیوں سے ملاقات کے بعد بابولال مرانڈی نے مغربی سنگھ بھوم کے پولیس سپرنٹنڈنٹ امت رینو سے ٹیلی فون پر بات کر کے فوری ایف آئی آر درج کرنے، ملزمان کی جلد گرفتاری یقینی بنانے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرانڈی نے الزام لگایا کہ اس نوعیت کے معاملات میں کئی بار مقامی سطح پر بروقت مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث حالات بگڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شکایات پر فوری قانونی کارروائی کی جائے تو اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔

سابق وزیر بڑکنور گاگرائی نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام برادریوں کو ایک دوسرے کے مذہبی عقائد اور عبادت گاہوں کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لیے ملزمان کی جلد گرفتاری ضروری ہے۔

اس درمیان آدیواسی ہو مہاسبھا کے صدر ایپل سامڈ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سماج کے منڈا-مانکی نمائندوں اور دیگر دانشوروں کے ساتھ مشاورت کے بعد 16 جولائی 2026 کو مجھگاؤں کے پڑسا میدان میں ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اجلاس میں آدیواسی ہو برادری کے بڑی تعداد میں افراد شرکت کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande