ایم پی کے ہردا میں اپنے مطالبات کو لے کر کسانوں کا غصہ ، اندور-ناگپور نیشنل ہائی وے پر چکہ جام کیا
ٹینٹ لگا کر دھرنے پر بیٹھے 5000 کسان، بھاری پولیس فورس تعینات بھوپال/ہردا، 15 جولائی (ہ س)۔ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر مونگ کی 100 فیصد خریداری اور زیرِ التوا فصل انشورنس کی ادائیگی جیسے مطالبات کو لے کر بدھ کے روز مدھیہ پردیش کے ہر
ایم پی کے ہردا میں اپنے مطالبات کو لے کر کسانوں کا مظاہرہ


ٹینٹ لگا کر دھرنے پر بیٹھے 5000 کسان، بھاری پولیس فورس تعینات

بھوپال/ہردا، 15 جولائی (ہ س)۔

کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر مونگ کی 100 فیصد خریداری اور زیرِ التوا فصل انشورنس کی ادائیگی جیسے مطالبات کو لے کر بدھ کے روز مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع کے پاس کسانوں نے اندور-ناگپور نیشنل ہائی وے جام کر دیا۔ تقریباً پانچ ہزار کسانوں کے ٹینٹ لگا کر سڑک پر بیٹھنے سے ٹریفک بری طرح ٹھپ ہو گیا ہے، جسے دیکھتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

بدھ کی دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی کسانوں کی یہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے شدید رخ اختیار کرنے لگی، جب ہزاروں کسانوں نے اندور-ناگپور قومی شاہراہ پر ہی ٹینٹ لگانا شروع کر دیا۔ انتظامی افسران نے جب نیشنل ہائی وے پر ٹینٹ لگانے سے روکنے کی کوشش کی، تو کچھ دیر کے لیے ماحول بے حد کشیدہ ہو گیا، حالانکہ بعد میں ایس ڈی ایم کی سمجھانے بجھانے سے معاملہ پرسکون ہوا۔ مظاہرہ شروع ہونے کے کئی گھنٹوں بعد بھی کھیتوں سے ٹریکٹروں میں بھر کر کسانوں کے پہنچنے کا سلسلہ لگاتار جاری رہا۔

دھرنے کی جگہ پر کسان لیڈر ٹریکٹروں کے اوپر کھڑے ہو کر بھیڑ سے خطاب کر رہے ہیں۔

مقررین نے رہنماوں پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جن عوامی نمائندوں کو کسان ووٹ دے کر پارلیمنٹ اور اسمبلی بھیجتے ہیں، وہ جیتنے کے بعد کسانوں کے مفادات کو بھول جاتے ہیں۔ کسانوں نے صاف انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں گئے تو وہ آنے والے انتخابات میں اس کا کرارا جواب دیں گے۔

عام کسان یونین کے لیڈر رام انانیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تحریک میں پورے ضلع کے دیہی علاقوں سے 20 ہزار سے زیادہ کسان جمع ہوں گے۔ کسانوں کا الزام ہے کہ حکومت صرف 25 فیصد مونگ کی ہی خریداری کر رہی ہے، جس سے انہیں بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ پہلے جہاں فی ہیکٹر 10 سے 12 کوئنٹل تک خریداری ہوتی تھی، وہیں اس بار بمپر پیداوار کے باوجود خریداری کی حد گھٹا کر محض 3 کوئنٹل فی ہیکٹر کر دی گئی ہے۔

کسان بنیادی طور پر تین مطالبات کو لے کر اڑے ہوئے ہیں۔ پہلی، گرمائی مونگ کی پوری یعنی 100 فیصد پیداوار کی خریداری ایم ایس پی پر کی جائے۔ دوسری، ضلع میں مونگ کی خریداری کے مراکز کی تعداد بڑھائی جائے اور تیسری، خریف-2025 کی جو فصل انشورنس کی رقم کافی وقت سے زیرِ التوا ہے، اسے فوراً کسانوں کے بینک کھاتوں میں ٹرانسفر کیا جائے۔

اتنے بڑے چکا جام اور غصے کے درمیان مظاہرہ کرنے والے کسانوں نے انسانی حساسیت کا مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے ہنگامی خدمات کا خیال رکھتے ہوئے ایمبولینس اور اسکول کی گاڑیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے محفوظ راستہ دیا، تاکہ مریضوں اور بچوں کو پریشانی نہ ہو۔

دوسری طرف، سیکورٹی انتظامات کو پختہ رکھنے کے لیے ایس پی ششانک نے نربدا پورم، رائسین، بیتول، اندور اور چھندواڑا سے اضافی پولیس فورس بلوائی ہے۔ موقع پر ایس ڈی او پی شالنی پرستے اور ایس ڈی ایم اشوک ڈہریا سمیت تقریباً 500 جوان تعینات ہیں۔ کلکٹر سدھارتھ جین اور ایس پی نے خود سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ ہائی وے جام ہونے کی وجہ سے انتظامیہ نے کئی روٹ ڈائیورٹ کیے ہیں، جس کے باعث اندور اور ہردا کے درمیان سفر کرنے والے عام مسافروں کو بے حد طویل اور متبادل راستوں سے ہو کر گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے انہیں بھاری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande