
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س) ۔دہلی ہائی کورٹ نے جنک پوری میں تین سالہ بچی کی عصمت دری کے معاملے میںملزم ایک خاتون ٹیچر کو دی گئی ضمانت کو منسوخ کر دیا ہے۔ جسٹس سوربھ بنرجی کی سربراہی والی بنچ نے ٹیچر کو تین دن کے اندر خودسپردگی کا حکم دیا۔
ٹرائل کورٹ نے 20 مئی کو خاتون ٹیچر کو ضمانت دی تھی۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو ضمانت دینے میں غلطی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس پوکسو ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت آتا ہے، جس میں کم از کم 20 سال قید کی سزا ہوتی ہے۔ دہلی پولیس نے ملزم خاتون ٹیچر کو ٹرائل کورٹ سے دی گئی ضمانت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس معاملے میں متاثرہ نے ملزم کی شناخت کی ہے اور واقعہ کے بارے میں بیان دیا ہے۔ ٹیچر پر انتظامیہ سے واقعے کی معلومات چھپانے کا الزام ہے۔ اس سے قبل 29 جون کو ہائی کورٹ نے ملزم سکول کیئر ٹیکر کی ضمانت بھی منسوخ کر دی تھی۔
یہ واقعہ 30 اپریل کو پیش آیا۔ لڑکی کی ماں نے یکم مئی کو جنک پوری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ زیادتی کا واقعہ لڑکی کے اسکول میں داخلے کے دوسرے دن پیش آیا۔ جب لڑکی 30 اپریل کو اسکول سے واپس آئی تو اس نے درد کی شکایت کی۔ جب اس کی والدہ نے اس سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ ملزم کیئر ٹیکر اسے اسکول کے ایک ویران علاقے میں لے گیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ پولیس کے مطابق لڑکی نے ملزم کی شناخت کی جس کے بعد اسے یکم مئی کو گرفتار کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan