
امراوتی، 15 جولائی (ہ س)۔ امراوتی شہر کے رکمنی نگر علاقے میں راجیندر کالونی روڈ پر ایک 26 سالہ نوجوان کو تیز دھار ہتھیار سے حملہ کرکے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ سنسنی خیز واردات بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے منظر عام پر آئی۔ حملہ آوروں نے پہلے نوجوان کے ہاتھ کی ہتھیلی کاٹ دی، جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے بھاگا، لیکن ملزمان نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے گردن اور سینے پر متعدد وار کرکے موقع پر ہی قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد شہر میں قانون و نظم کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پولیس نے دوپہر تک کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔مہلوک کی شناخت شیخ اشفاق شیخ شکیل (26)، ساکن تاج نگر، امراوتی، کے طور پر ہوئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً آٹھ بجے رکمنی نگر سے راجیندر کالونی جانے والی سڑک پر ایک اسپتال کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا۔ اس حملے میں ان کے ہاتھ کی ہتھیلی جسم سے الگ ہو کر سڑک پر جا گری۔ شدید زخمی حالت میں وہ جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے، لیکن حملہ آوروں نے ان کا پیچھا کیا اور گردن و سینے پر پے در پے وار کرکے انہیں لہولہان کر دیا۔شدید زخمی حالت میں شیخ اشفاق کو ضلع سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور پنچنامہ کیا۔ جائے وقوعہ پر بڑی مقدار میں خون پھیلا ہوا تھا جبکہ مقتول کے ہاتھ کی کٹی ہوئی ہتھیلی بھی سڑک پر پڑی ہوئی ملی، جس سے واقعے کی ہولناکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔پولیس نے واقعے کے فوراً بعد تفتیش شروع کرتے ہوئے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج جمع کر لی ہے۔ قتل کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی ہے، تاہم پولیس تمام ممکنہ پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ تفتیشی حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شیخ اشفاق اس مقام پر کس مقصد سے پہنچے تھے، آیا حملہ آور پہلے سے ان کا تعاقب کر رہے تھے یا نہیں، اور قتل کے پس پردہ اصل محرک کیا تھا۔ پولیس کے مطابق صبح کے وقت اس علاقے میں زیادہ آمدورفت نہیں ہوتی، اس لیے حملہ آوروں نے موقع کا فائدہ اٹھایا۔ واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امراوتی شہر میں قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ معمولی تنازعات پر بھی جان لیوا حملوں کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک ہی دن گڈگے نگر اور بڑنیرا علاقوں میں دو الگ الگ قتل کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ پولیس نے شہر میں غیر قانونی اور مہلک ہتھیاروں کے خلاف خصوصی مہم بھی شروع کی ہے اور حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں خطرناک ہتھیار ضبط کیے گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود مجرمانہ سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی نظر نہیں آ رہی، جس سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے