
ممبئی ، 15 جولائی (ہ س) مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ کے روز ریاستی کسانوں کے لیے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے سات ہارس پاور تک کے زرعی پمپ استعمال کرنے والے کسانوں کے 48 ہزار کروڑ روپے کے پرانے بقایہ بجلی بل بھی معاف کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد کسانوں کا پرانا بوجھ ختم کرکے انہیں نئی شروعات کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یشونت راؤ چوہان پرتشٹھان آڈیٹوریم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کسان مورچہ کی جانب سے منعقدہ تہنیتی تقریب میں ریاست بھر سے آئے سیکڑوں کسانوں نے اس اعلان کا زبردست خیرمقدم کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت پہلے ہی ساڑھے سات ہارس پاور تک کے زرعی پمپوں پر بجلی کا بل وصول نہیں کرتی، تاہم اب کسانوں کے 48 ہزار کروڑ روپے کے بقایہ جات بھی معاف کیے جائیں گے تاکہ کسان نئی توانائی کے ساتھ اپنی زرعی سرگرمیوں کو آگے بڑھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قرض معافی کے علاوہ اب تک کسانوں کو تقریباً 95 ہزار کروڑ روپے کی مختلف امداد فراہم کر چکی ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومت مشترکہ طور پر زراعت کو مضبوط، پائیدار اور منافع بخش بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں، لیکن قرض معافی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتی۔ اگر کسانوں کو بار بار قرض معاف کرنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ زرعی شعبہ بنیادی مسائل سے دوچار ہے، اس لیے جدید ٹیکنالوجی، نئی زرعی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
دیویندر فڑنویس نے کہا کہ 2014 کے بعد حکومت نے زرعی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔ ماگیل تیالا شیت تلے اسکیم کے ذریعے لاکھوں کسانوں کو نئے مواقع حاصل ہوئے ہیں، جبکہ جل یکت شوار منصوبے کے باعث کئی کسان اب سال میں تین فصلیں لینے کے قابل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں تک زرعی پیداوار کی رسائی بڑھ چکی ہے، لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیداوار میں اضافہ اور لاگت میں کمی ضروری ہے، جس کے لیے گروپ فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ کسان مشترکہ طور پر زیادہ منافع حاصل کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ہر سال تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے بجلی بل معافی پر خرچ کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کو بہتر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ سولر پمپ اور سولر کرشی واہنی منصوبوں کے تحت اس وقت 76 فیصد کسانوں کو دن کے وقت بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور سال کے اختتام تک یہ سہولت 100 فیصد کسانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے تقریب میں شریک کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ تہنیت صرف اس لیے قبول کی تاکہ انہیں کسانوں سے براہِ راست بات کرنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ اعزاز پوری ریاستی کابینہ کی جانب سے قبول کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی انتخاب کے دباؤ کے بغیر کسانوں کے لیے قرض معافی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ انتخابی مہم کے دوران اس کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن بعد میں عوام نے بی جے پی اور مہایوتی کو بھرپور مینڈیٹ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کے مفاد سے متعلق فیصلے کبھی سیاسی بنیاد پر نہیں کیے جائیں گے بلکہ صرف کسانوں کی فلاح کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے نام پر سیاست کرنے والوں کو حکومت کے خلوص کا اندازہ نہیں ہے۔
دیویندر فڑنویس نے کہا کہ وہ گھر بیٹھ کر فیصلے کرنے والے لیڈر نہیں بلکہ خود بھی کسان ہیں، اس لیے زراعت کی مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرض معافی کی بعض شرائط اب ختم کر دی گئی ہیں اور کسانوں کو زراعت کے ساتھ صنعت اور ویلیو ایڈیشن کو جوڑ کر اپنی معاشی حالت مضبوط بنانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو قدرتی کھیتی کی طرف راغب کرنے، دیسی گایوں کے تحفظ، زمین کی زرخیزی بڑھانے اور جدید تجربات کو فروغ دینے کے لیے بھی سرگرم ہے۔ حکومت مستقبل میں سرمایہ کاری پر مبنی زرعی ماڈل کو فروغ دے گی تاکہ کسانوں کی آمدنی میں مستقل اضافہ ہو سکے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کی قرض معافی حکومت کو سرکاری خزانے سے فراہم کرنا پڑتی ہے، اس لیے صنعت اور خدمات کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری لا کر حاصل ہونے والی ٹیکس آمدنی کو زراعت میں لگایا جائے گا، تاکہ آئندہ دس برسوں میں زرعی شعبہ خود کفیل بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا تقریباً 52 فیصد علاقہ خشک سالی سے متاثر رہتا ہے، جبکہ دوسری طرف بارش کا بڑی مقدار میں پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وین گنگا، نل گنگا اور دیگر آبی منصوبوں کے ذریعے دریاؤں کو جوڑا جا رہا ہے، تقریباً 24 نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے اور 16 پرانے ڈیموں کی اونچائی بڑھائی جائے گی تاکہ بہہ جانے والے پانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد ودربھ کا کوئی بھی ضلع خشک سالی کا شکار نہیں رہے گا اور اس سال ہی ان منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال سیلابی پانی کی صورت میں تقریباً 200 ٹی ایم سی پانی ضائع ہو جاتا ہے، جسے ویئر بندھاروں کے ذریعے مغربی مہاراشٹر سے مراٹھواڑہ منتقل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اسی طرح الہاس طاس سے بہہ جانے والے تقریباً 275 ٹی ایم سی پانی کو مختلف ذرائع سے شمالی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ تک پہنچا کر ان علاقوں کو خشک سالی سے نجات دلانے کا منصوبہ بھی حکومت نے شروع کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے