
ریاست میں آئندہ پانچ تا چھ دن بارش کے امکانات کم، 20 جولائی کے بعد موسم میں تبدیلی کے آثارممبئی، 14 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر میں مانسون نے ایک بار پھر وقفہ لے لیا ہے اور آئندہ پانچ سے چھ دن تک ریاست کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کے امکانات کم ہیں۔ موسمیات کے ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں ایل نینو کے بڑھتے ہوئے اثرات اور افغانستان کی جانب سے آنے والی خشک ہواؤں کے باعث مانسون کی سرگرمی کمزور پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ممبئی، وسطی مہاراشٹر، مغربی مہاراشٹر، شمالی مہاراشٹر، مراٹھواڑہ اور ودربھ کے کئی علاقوں میں بارش کی شدت میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔ماہرین کے مطابق بدھ اور جمعرات کو بعض مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے، تاہم اس سے زراعت یا آبی ذخائر کو کوئی خاص فائدہ پہنچنے کی توقع نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال میں ریاست کے بیشتر علاقوں میں نمی اور گرمی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ بارش کی کمی کے باعث خریف سیزن کی فصلوں کے حوالے سے کسانوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔خصوصاً مراٹھواڑہ میں جولائی کا دوسرا ہفتہ ختم ہونے کے باوجود بوائی کا کام توقع کے مطابق مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ کئی علاقوں میں بارش نہ ہونے کے سبب بوائی متاثر ہوئی ہے اور محکمہ زراعت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال چند روز مزید برقرار رہی تو کسانوں کو دوبارہ بوائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ودربھ میں بھی بارش کی نمایاں کمی برقرار ہے۔ عام طور پر جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں ڈیموں اور آبی ذخائر میں وافر مقدار میں پانی جمع ہوجاتا ہے، لیکن اس سال بارش کم ہونے کے باعث ذخائر میں پانی کی سطح گزشتہ برس کے مقابلے میں کم ہے، جس سے پینے کے پانی اور زرعی مقاصد کے لیے پانی کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔دریں اثنا، ماہرین نے 20 جولائی کے بعد موسم میں کچھ تبدیلی کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ اگر خلیج بنگال میں کم دباؤ کا نیا نظام تشکیل پاتا ہے تو مانسون دوبارہ سرگرم ہوسکتا ہے۔ اس موسمی نظام کے باعث افغانستان سے آنے والی خشک ہواؤں کا اثر کم ہونے کا امکان ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کم دباؤ کا یہ نظام ودربھ کے قریب بنتا ہے تو اس خطے میں نسبتاً زیادہ بارش ہوسکتی ہے، جبکہ مراٹھواڑہ پر اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم موجودہ اندازوں کے مطابق یہ بارش جولائی کے پہلے ہفتے میں ہونے والی موسلادھار بارش جتنی شدید نہیں ہوگی۔ اسی وجہ سے ریاست بھر کے کسانوں اور شہریوں کی نظریں اب 20 جولائی کے بعد متوقع موسمی تبدیلی پر مرکوز ہیں۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے