بی جے وائی ایم کے پہلے ریاستی سکریٹری ہریرام چودھری کا انتقال
بلیا، 14 جولائی (ہ س)۔ اتر پردیش کے بلیا میں میونسپلٹی کے سابق چیئرمین ہری رام چودھری کا طویل علالت کے بعد پیر کی آدھی رات کو انتقال ہو گیا۔ وہ 83 برس کے تھے۔ انہیں بلیا میں بی جے پی کا بنیادی ستون کہا جاتا تھا۔ ہری رام چودھری نے سیاست کے ساتھ س
ہریرام چودھری فائل فوٹو


بلیا، 14 جولائی (ہ س)۔

اتر پردیش کے بلیا میں میونسپلٹی کے سابق چیئرمین ہری رام چودھری کا طویل علالت کے بعد پیر کی آدھی رات کو انتقال ہو گیا۔ وہ 83 برس کے تھے۔ انہیں بلیا میں بی جے پی کا بنیادی ستون کہا جاتا تھا۔

ہری رام چودھری نے سیاست کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک وکالت بھی کی۔ گزشتہ کئی مہینوں سے وہ علیل چل رہے تھے۔ ڈاکٹروں کی صلاح پر ان کے اہل خانہ گھر پر ہی ان کی دیکھ بھال کررہے تھے۔ ان کے بڑے بیٹے اور بی جے پی لیڈر راجیو موہن چودھری نے بتایا کہ انہوں نے آخری سانس پیر کی رات تقریباً 11.30بجے لی۔ یہ خبر سنتے ہی پورے ضلع میں غم کی لہردوڑ گئی۔ ہری رام چودھری کی سماجی زندگی بے حد سادگی اور ایمانداری سے عبارت تھی۔ ہریرام چودھری شروع سے ہی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریات سے وابستہ ہو گئے تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی میں اے بی وی پی یعنی اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے پہلے امیدوارکے طورپراسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن لڑا۔ اس کے بعد ایمرجنسی کے دوران تقریباً 19 مہینے جیل میں گزارے۔ بعد میں جب وہ سرگرم سیاست میں آئے، تو بی جے پی کی تشکیل کے بعد انہیں بی جے وائی ایم کے پہلے ریاستی تنظیم کے سکریٹری کی ذمہ داری ملی۔ اس دورمیں بی جے پی یوتھ ونگ کے پہلے قومی صدر کلراج مشرا کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ اٹل بہاری واجپئی اور کلیان سنگھ جیسے بڑے رہنماوں کے قریب آئے۔ ہری رام چودھری نے 1980 میں بلیا صدر سیٹ سے پہلی بار بی جے پی امیدوار کے طور پر اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ پھر 1989 میں بھی وہ صدرسیٹ سے بی جے پی کے امیدواربنے۔ دونوں بارانہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ بلیا میں بی جے پی کی مضبوط بنیاد رکھنے کا سہرا ہری رام چودھری کے سرہی جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بی جے پی نے 1995 میں بلیا میونسپلٹی کونسل کے انتخاب میں ہری رام چودھری پربھروسہ جتایا اورانہوں نے جیت حاصل کی۔ بعد کے دنوں میں بھی وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ رہ کراسے آگے بڑھانے میں مصروف رہے۔ ان کے انتقال پر نہ صرف بی جے پی بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande