گراوٹ کے ساتھ بند ہوا گھریلو شیئر بازار ، سرمایہ کاروں کو 2.20 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س): مغربی ایشیا میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی، بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے باعث آج گھریلو شیئر بازار مسلسل منفی رجحان کے سات
प्रतीकात्मक


نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س):

مغربی ایشیا میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی، بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے باعث آج گھریلو شیئر بازار مسلسل منفی رجحان کے ساتھ کاروبار کرتا رہا۔ منفی حالات کے سبب دن بھر کی تجارت کے اختتام پر سینسیکس میں 0.72 فیصد اور نفٹی میں 0.66 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ بازار کی اس کمزوری کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو تقریباً 2.20 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

بی ایس ای کا سینسیکس آج 344.06 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد کی کمی کے ساتھ 77,272.34 پوائنٹس پر کھلا۔ کاروبار شروع ہونے کے بعد ابتدائی 10 منٹ میں یہ انڈیکس تقریباً 130 پوائنٹس کی بحالی کے ساتھ 77,402.79 پوائنٹس تک پہنچ گیا، لیکن اس کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث سینسیکس مسلسل نیچے آتا گیا۔ دن بھر کی تجارت کے اختتام پر سینسیکس 561.46 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 77,054.94 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسی طرح این ایس ای کا نفٹی بھی 143 پوائنٹس یعنی 0.59 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 24,068 پوائنٹس پر کھلا۔ بازار کھلتے ہی خریداری کی بدولت نفٹی تقریباً 90 پوائنٹس سنبھل کر 24,157.10 پوائنٹس تک پہنچ گیا، تاہم بعد میں فروخت کے دباؤ نے اسے نیچے دھکیل دیا۔ آخر میں انٹرا ڈے سیٹلمنٹ کے دوران معمولی خریداری سے نفٹی نچلی سطح سے تقریباً 30 پوائنٹس سنبھلا، لیکن پھر بھی 158.95 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 24,052.05 پوائنٹس پر بند ہوا۔

آج کی گراوٹ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی مجموعی دولت میں دو لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن گھٹ کر عارضی طور پر 479.40 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا، جبکہ گزشتہ کاروباری دن یہ 481.60 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ اس طرح صرف آج کے کاروبار میں سرمایہ کاروں کو تقریباً 2.20 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

دن بھر کی تجارت کے بعد نمایاں فائدہ حاصل کرنے والے بڑے شیئرز میں بھارتی ایئرٹیل (1.82 فیصد)، اپولو ہاسپٹلس (1.34 فیصد)، سن فارماسیوٹیکلز (1.10 فیصد)، ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز (0.95 فیصد) اور ٹی سی ایس (0.88 فیصد) شامل رہے۔ دوسری جانب سب سے زیادہ گراوٹ کے شکار شیئروں میں ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز (4.46 فیصد)، شری رام فنانس (3.26 فیصد)، ایچ ڈی ایف سی لائف (3.17 فیصد)، ٹی ایم پی وی (2.60 فیصد) اور انٹرگلوب ایوی ایشن (2.32 فیصد) شامل رہے۔

ہندوستھان سماچار

--------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande