
بیڑ، 14 جولائی (ہ س): کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم شیتکری حق مورچہ کی جانب سے بیڑ۔پمپلنیر روڈ پر راجیندر آمٹے کی قیادت میں بڑے پیمانے پر سڑک روکو احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ حکومت گزشتہ اعلان کے مطابق کسانوں کو فی ہیکٹر 17 ہزار روپے فصل بیمہ امداد فراہم کرے، تمام کسانوں کو بلا امتیاز مکمل قرض معافی دی جائے اور خشک سالی جیسے حالات سے نمٹنے کے لیے مصنوعی بارش کا تجربہ بھی کیا جائے۔
راجیندر آمٹے نے کہا کہ کسانوں نے قرض معافی کی لڑائی پہلے بھی جیتی تھی، اب حکومت کو چاہیے کہ وہ شدید بارش اور قدرتی آفات کے دوران کیے گئے اپنے وعدے کے مطابق کسانوں کو فی ہیکٹر 17 ہزار روپے کی امداد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ بیڑ ضلع میں بارش نہ ہونے کے سبب کھڑی فصلیں سوکھنے لگی ہیں اور کسان شدید بحران کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسانوں کو دوبارہ بوائی کرنی پڑ رہی ہے اور اگر آئندہ آٹھ سے دس دن کے اندر مناسب بارش نہ ہوئی تو کئی کسانوں کو تیسری مرتبہ بوائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے ان پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
راجیندر آمٹے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ملک چندریان اور منگل یان جیسے خلائی مشن کامیابی سے انجام دے سکتا ہے تو کسانوں کو بچانے کے لیے مصنوعی بارش جیسے سائنسی اقدامات بھی کیے جانے چاہئیں تاکہ فصلوں کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اعلان کے مطابق تمام کسانوں کو بلا امتیاز قرض معافی فراہم کرے۔ اگر قرض معافی کی اسکیم میں کسی قسم کی ناانصافی یا دھوکہ دہی کی گئی تو شیتکری حق مورچہ اسے ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔
اس مطالبے کے تحت بیڑ۔پمپلنیر روڈ پر عمرد خالصہ پھاٹا (اُمری پھاٹا) کے مقام پر کسانوں نے سڑک روکو احتجاج کیا اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے نام ایک یادداشت تحصیلدار کے ذریعے پیش کی۔ احتجاج میں راجیندر آمٹے، بالاصاحب مورے، راہل ٹیکالے، اشوک ییڑے، کملیش بوراڈے، روہیداس مسکے سمیت متعدد قائدین شریک ہوئے، جبکہ اِٹ گنگناتھ واڑی، پمپلنیر اور اطراف کے علاقوں سے ہزاروں کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے