ریونت ریڈی کے ووٹر اندراج سے متعلق دعووں پر نئی سیاسی بحث
حیدرآباد ،14 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے ووٹراندراج سے متعلق بعض دعووں کے سامنے آنے کے بعدریاست کی سیاسی حلقوں میں بحث چھڑگئی ہے۔ بعض سیاسی حلقوں اورسوشل میڈیا پرگردش کرنے والے دعووں کے مطابق وزیراعلیٰ کا نام مبینہ طورپراچ
ریونت ریڈی کے ووٹر اندراج سے متعلق دعووں پر نئی سیاسی بحث


حیدرآباد ،14 جولائی (ہ س)۔

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے ووٹراندراج سے متعلق بعض دعووں کے سامنے آنے کے بعدریاست کی سیاسی حلقوں میں بحث چھڑگئی ہے۔ بعض سیاسی حلقوں اورسوشل میڈیا پرگردش کرنے والے دعووں کے مطابق وزیراعلیٰ کا نام مبینہ طورپراچم پیٹ اسمبلی حلقہ(ناگرکرنول پارلیمانی حلقہ)اورکوڈنگل اسمبلی حلقہ (محبوب نگر پارلیمانی حلقہ) کی ووٹرفہرستوں میں درج ہے۔ ان دعووں میں یہ بھی کہاجارہاہے کہ دونوں اندراجات ایک ہی ای پی آئی سی نمبرسے منسلک ہیں۔ یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہواہےکیونکہ انتخابی قوانین کے مطابق ایک ووٹرکواپنے مستقل رہائشی مقام کے مطابق صرف ایک ہی جگہ ووٹرکے طورپررجسٹر ہونا چاہیے، جبکہ ایک سے زائد مقامات پر اندراج کی صورت میں متعلقہ حکام کی جانب سے جانچ اور تصحیح کی کارروائی کی جاتی ہے۔ تاہم، فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ووٹر فہرست میں کسی قسم کی مماثلت یادوہرااندراج موجود ہے تو آیا وہ کسی تکنیکی یا انتظامی خرابی کا نتیجہ ہے یا اس حوالے سے پہلے ہی اصلاحی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

اب تک وزیراعلیٰ کے دفتریاالیکشن کمیشن کی جانب سے ان دعووں پرکوئی باضابطہ ردعمل یاوضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابی حکام ریکارڈ کی جانچ کے بعد اس معاملے پر وضاحت جاری کریں گے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی پائی گئی تو انتخابی قوانین کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande