ملک کی سب سے بڑی اثاثہ جات کے انتظام کی کمپنی ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کا آئی پی اولانچ ، 21 جولائی کوہو سکتی ہے لسٹنگ
نئی دہلی، 14 جولائی(ہ س)۔ ملک کی سب سے بڑی اثاثہ جات کے انتظام کی کمپنی (اے ایم سی) ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ نے منگل کو سبسکرپشن کے لیے 1 کروڑ روپے کا آئی پی او لانچ کیا۔ ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) اور ایمنڈی انڈیا کے د
اچاثہ


نئی دہلی، 14 جولائی(ہ س)۔ ملک کی سب سے بڑی اثاثہ جات کے انتظام کی کمپنی (اے ایم سی) ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ نے منگل کو سبسکرپشن کے لیے 1 کروڑ روپے کا آئی پی او لانچ کیا۔ ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) اور ایمنڈی انڈیا کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ کمپنی کا آئی پی او 16 جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص 17 جولائی کو ایشو بند ہونے کے بعد الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 20 جولائی کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 21 جولائی کو بی ایس ای اور این ایس ای پر درج ہونے کا امکان ہے۔ آئی پی او کو پہلے دن دوپہر 12.30 بجے تک 22 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔

اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 545 روپے سے 574 روپے فی حصص کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ کا سائز 26 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کار کم از کم 1 لاٹ یعنی 26 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,924روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ 13 لاٹوں میں 338 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ ایس بی آئی فنڈ مینجمنٹ اور ایس بی آئی ملازمین کو فی حصص 54 روپے کی رعایت ملے گی۔ تاہم، ایس بی آئی کے موجودہ شیئر ہولڈرز کے لیے ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔

ایس بی آئی فنڈ مینجمنٹ کے اس آئی پی او کے تحت کوئی نئے حصص جاری نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اس آئی پی او میں، پیشکش برائے فروخت ونڈو کے ذریعے 1 روپے کی فیس ویلیو والے کل 17,09,56,631 حصص فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس میں سے 12,83,34,397 حصص ایس بی آئی کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں اور 7,53,74,842 حصص ایمنڈی انڈیا ہولڈنگ کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

آئی پی او کے کھلنے سے پہلے، کمپنی 129 اینکر سرمایہ کاروں سے 2,662.96 کروڑ روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے تحت مورگن اسٹینلے، بلیک راک، گولڈمین سیکس، ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی، سٹی گروپ اور حکومت سنگاپور سمیت دیگر اینکر سرمایہ کاروں کو 574 روپے فی حصص کے حساب سے 17.09کروڑ حصص جاری کیے ہیں۔ اس میں 991کروڑسے 1.72 کروڑکے حصص ایکسس میوچول فنڈ، ایچ ڈی ایف سی اے ایم سی، ٹاٹا میوچول فنڈ اور موتی لال اوسوال اے ایم سی سمیت 23 گھریلو میوچل فنڈز کو 70اسکیموں کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔

آئی پی او کا ایک فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے محفوظ کیا گیا ہے۔ مزید ، 45.23 فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے اور 31.66 فیصداور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے 13.57فیصد حصہ مخصوص ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی کا1.91 فیصدحصہ ملازمین کے لیے اور 7.64 فیصد موجودہ حصص یافتگان کے لیے مخصوص ہے۔ کوٹک مہندرا کیپٹل کمپنی لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔

ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 2,072.79 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 2,540.15کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر3,067.38 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں، اس نے 3,426.08 کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 4,236.15 کروڑ ہو گئی اور گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں بڑھ کر4,976.11کروڑ ہو گئی۔

اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال2023تا2024 میں182.02کروڑ روپے کی سطح پرتھا، 2024-2025میں بڑھ کر 255.12کروڑ ہوگیا، اسی طرح 2025 سے 2026میں بڑھ کر326.73 کروڑ ہو گیا۔

جہاں تک کمپنی کی مجموعی مالیت کا تعلق ہے، اس دوران اس میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023تا2024 میں کمپنی کی مجموعی مالیت 6,747.45 کروڑ کی سطح پر تھی، جو 2024تا2025ں بڑھ کر 8,297.53 کروڑ ہو گئی۔ تاہم، گزشتہ مالی سال 2025-2026میں کمپنی کی مجموعی مالیت گھٹ کر5,963.06 کروڑ روپے رہ گئی۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ، ٹیکسزسود، ٹیکسزڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024 میں 2,718.82 کروڑ روپے رہی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر3,412.94 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 4,058.44 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande