
علی گڑھ, 14 جولائی (ہ س) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آج مولانا آزاد لائبریری کے احاطے میں نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) کی موبائل لائبریری وین کا افتتاح کیا گیا، جس کے ذریعے یونیورسٹی کی علمی برادری کو مختلف موضوعات پر مشتمل معیاری کتب کا وسیع ذخیرہ فراہم کیا گیا۔ وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے تحت نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کی جانب سے منعقدہ اس اقدام کا مقصد طلبہ میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینا اور طلبہ، محققین اور اساتذہ کو معیاری کتابوں تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
موبائل لائبریری وین کا افتتاح یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پر پبلک ریلیشنز آفس کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما، شعبہ ہندی کی پروفیسر عفت اصغر، ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر حبیب الرحمٰن، دیگر ڈپٹی لائبریرین، اسسٹنٹ لائبریرین، لائبریری پروفیشنلز، اساتذہ اور طلبہ بھی موجود تھے۔
نمائش میں ادب، سائنس، سماجی علوم، تاریخ، سوانح، بچوں کے ادب اور دیگر متعدد موضوعات پر مشتمل ہندی، اردو اور انگریزی زبانوں کی کتابوں کا وسیع ذخیرہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد رضوان خان نے کہا کہ اس نوعیت کی کتابی نمائشیں طلبہ اور محققین میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے، علمی افق کو وسیع کرنے اور زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پروفیسر نشاط فاطمہ نے نیشنل بک ٹرسٹ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ موبائل لائبریری وین کے ذریعے تعلیمی اداروں تک کتابیں پہنچانے کا یہ منصوبہ مطالعے کی ثقافت کو مضبوط بنانے اور ہر عمر کے قارئین کے لیے معیاری کتابوں تک رسائی آسان بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
پروفیسر وبھا شرما نے کہا کہ اس نمائش نے قارئین کو مختلف علمی شعبوں کی معیاری کتابوں سے واقف ہونے اور اپنی ذاتی لائبریری کو مفید مطبوعات سے مالا مال کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ پروفیسر عفت اصغر نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مطالعے کی روایت کو فروغ دینے اور علمی برادری تک معیاری ادب پہنچانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
نمائش میں اساتذہ، لائبریرینز، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے کتابوں کے ذخیرے کا گہری دلچسپی سے مشاہدہ کیا اور رعایتی قیمتوں پر دستیاب تازہ ترین علمی اور عمومی دلچسپی کی مطبوعات میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ