
بھوپال، 14 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں وزرا کی کونسل (کابینہ) کی میٹنگ منگل کے روز وزارت میں منعقد ہوئی۔ کابینہ کی میٹنگ میں مدھیہ پردیش کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی بہبود کے لیے 10 ہزار 800 کروڑ روپے کی مختلف ترقیاتی تجاویز کو منظوری دی گئی۔ ریاستی حکومت نے شہروں کی تزئین و آرائش کے لیے شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے مد میں 8 ہزار 445 کروڑ روپے کی رقم منظور کی ہے۔
اس کے ساتھ ہی کابینہ نے کسانوں کے مفاد میں مونگ کی خریداری کے لیے 1,587 کروڑ روپے کی مفت سرکاری گارنٹی اور آبپاشی کی سہولیات کی توسیع کے لیے کنڈلیا پروجیکٹ کو جاری رکھنے جیسے کئی دور رس اور تاریخی فیصلوں پر مہر لگائی ہے۔
کابینہ نے راج گڑھ میں محکمہ وسائلِ آب کے کنڈلیا بڑے آبپاشی پروجیکٹ کو 16ویں مرکزی مالیاتی کمیشن کی مدت یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک مسلسل چلانے کے لیے 245 کروڑ 45 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ ضلع راج گڑھ میں تعمیر کردہ یہ ایک بڑا آبپاشی پروجیکٹ ہے۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ڈیم کی تعمیر کر کے مائیکرو آبپاشی نظام کے ذریعے راج گڑھ اور آگر-مالوہ ضلع کے 1,39,600 ہیکٹر رقبے میں آبپاشی کی صلاحیت کو ترقی دینا ہے۔
کابینہ نے ربیع سال 24-2023 اور مارکیٹنگ سال 25-2024 میں حکومت ہند کی پرائس سپورٹ اسکیم کے تحت ہدف سے زیادہ خریدی گئی مونگ کے لیے 1,587 کروڑ روپے کی مفت سرکاری گارنٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق پنجاب نیشنل بینک سے لی گئی کریڈٹ لمٹ میں 19 جولائی 2026 سے 18 جنوری 2027 تک 6 ماہ کی مدت کے لیے بقیہ رقم 396 کروڑ روپے کی مفت سرکاری گارنٹی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے لی گئی کریڈٹ لمٹ میں 3 جولائی 2026 سے 2 جولائی 2027 تک 1 سال کی مدت کے لیے بقیہ رقم 1,191 کروڑ روپے کی مفت سرکاری گارنٹی فراہم کی جائے گی۔
کابینہ نے ٹیک-ہوم راشن کی پیداوار اور فراہمی کا نظام مدھیہ پردیش اسٹیٹ لائیولی ہڈ فورم سے واپس لے کر محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کو فوری طور پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوری طور پر عبوری انتظام کے طور پر سیلف ہیلپ گروپس (خواتین کے امدادِ باہمی گروپوں) سے سپلیمنٹری غذائیت فراہم کرنے کے لیے محکمے کو مجاز بنایا گیا ہے۔ عبوری انتظام کو فوری طور پر شروع کرنے کے ساتھ ہی حکومت ہند کی نئی ہدایات جاری ہونے اور نئے احکامات کے مطابق انتظام قائم ہونے تک کے لیے ٹیک ہوم راشن کا انتظام، قلیل مدتی ٹینڈر کے ذریعے کرنے کے لیے محکمے کو مجاز بنایا گیا ہے۔ حکومت ہند کی نئی ہدایات جاری ہونے کے بعد محکمہ مستقل انتظام قائم کرے گا۔
کابینہ نے محکمہ کمرشل ٹیکس کے تحت میونسپلٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن اور اسٹیمپ ڈیوٹی کے سرچارج سے حاصل ہونے والی رقم کو فنڈ میں منتقل کرنے سے متعلق اسکیم کو اگلے 5 برسوں تک چلانے کے لیے 8 ہزار 445 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔
میونسپلٹی ایکٹ کے تحت اسٹیمپ ڈیوٹی کے ساتھ مدھیہ پردیش میونسپلٹی/میونسپل کارپوریشن کے اضافی چارج کے طور پر وصول کی گئی رقم کو محکمہ شہری ترقیات کو منتقل کیا جاتا ہے۔ اس رقم کا استعمال میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی اور نگر پریشد کے ذریعے شہری علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے پروجیکٹوں کو نافذ کرنے اور ایسے پروجیکٹوں کے لیے اداروں کے ذریعے لیے گئے قرض کی ادائیگی کے لیے کیا جاتا ہے۔
کابینہ نے محکمہ کمرشل ٹیکس کے تحت چلنے والی تین تنصیبی اسکیموں کو اگلے 5 برسوں کی مدت یعنی مالیاتی سال 27-2026 سے سال 31-2030 تک مسلسل چلانے کے لیے مجموعی طور پر 521 کروڑ 4 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ منظوری کے مطابق ہیڈ کوارٹر کو چلانے کے لیے 60 کروڑ 81 لاکھ روپے، ضلع دفاتر کو چلانے کے لیے 434 کروڑ 81 لاکھ روپے اور زونل دفاتر کو چلانے کے لیے 25 کروڑ 42 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت ملازمین کی تنخواہیں اور الاونسز، دفتری اخراجات، پیشہ ورانہ خدمات کی ادائیگی اور مشین/فرنیچر/گاڑیوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن