یو سی سی پر کانگریس اپنا موقف واضح کرے: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
وزیر اعلیٰ نے کہا- ہر معاملے کو ہندو مسلم اور ووٹ بینک کی سیاست کے نظریے سے دیکھتی ہے کانگریس بھوپال، 14 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کی سمت میں تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی آخری رپورٹ حکومت کو سونپ دی گئی
اسمبلی کے احاطے میں وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کی


وزیر اعلیٰ نے کہا- ہر معاملے کو ہندو مسلم اور ووٹ بینک کی سیاست کے نظریے سے دیکھتی ہے کانگریس

بھوپال، 14 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کی سمت میں تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی آخری رپورٹ حکومت کو سونپ دی گئی ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اب حزبِ اختلاف کو بھی یو سی سی پر اپنا واضح موقف عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ ان کا الزام تھا کہ چاہے یکساں سول کوڈ کا معاملہ ہو یا بھوج شالا کا معاملہ، کانگریس ہر معاملے کو صرف ہندو مسلم اور ووٹ بینک کی سیاست کے چشمے سے دیکھتی ہے۔

منگل کے روز اسمبلی کے احاطے میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی کیلاش جوشی کے یومِ پیدائش پر منعقدہ گلہائے عقیدت کے پروگرام میں شرکت کے بعد وزیر اعلیٰ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی کو لے کر تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگوں نے کمیٹی کے سامنے اپنے خیالات واضح طور پر رکھے ہیں، لیکن کانگریس نے سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اب تک اپنا سرکاری موقف واضح نہیں کیا ہے۔ یہ کانگریس کے دوہرے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت میں اتنے اہم معاملے پر بڑی اپوزیشن پارٹی کا خاموش رہنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کانگریس یکساں سول کوڈ کے حق میں ہے یا مخالفت میں۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ یو سی سی کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے ایک دن پہلے ہی 13 جولائی کو اپنی آخری رپورٹ انہیں سونپ دی ہے۔ انہوں نے طے شدہ مدت کے اندر رپورٹ تیار کرنے اور پیش کرنے کے لیے کمیٹی کے صدر اور تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر کمیٹی کے اراکین پروفیسر گوپال شرما، بدھ پال سنگھ، شوبھا پیٹھنکر اور سکریٹری رکن اجے کٹیسریا بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ کو سونپی گئی رپورٹ تین مختلف جلدوں میں تیار کی گئی ہے۔ پہلی جلد میں کمیٹی کی سفارشات شامل ہیں۔ اس میں بین الاقوامی، قومی اور ریاستی سطح پر نافذ مختلف قوانین، عدالتی نظاموں اور روایات کا مطالعہ کر کے تجاویز دی گئی ہیں۔ اس حصے میں کل 10 ابواب شامل کیے گئے ہیں۔

دوسری جلد میں مجوزہ یکساں سول کوڈ بل کا مسودہ پیش کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے مدھیہ پردیش میں نافذ مختلف قوانین اور قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے بل تیار کیا ہے۔ مجوزہ بل میں چار حصے، 404 دفعات اور سات شیڈول شامل ہیں۔

رپورٹ کی تیسری جلد میں بڑے پیمانے پر عوامی مشاورت کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ کمیٹی نے ضلع کی سطح، ریاستی سطح اور آن لائن ذریعے سے شہریوں سے تجاویز طلب کی تھیں۔ اس عمل میں 9.58 لاکھ سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں۔ رپورٹ میں ان تجاویز کا سوال وار، جنس وار اور برادری وار تجزیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپنی اہم سفارشات میں قبائلیوں کو یکساں سول کوڈ کے دائرے سے باہر رکھنے کی تجویز دی ہے۔ اب ریاستی حکومت رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد آگے کے قانونی اور انتظامی عمل پر فیصلہ کرے گی۔

اس سے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اسمبلی کے احاطے میں منعقدہ پروگرام میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی کیلاش جوشی کے یومِ پیدائش پر ان کی تصویر پر گُل پوشی کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیلاش جوشی کی سادہ زندگی، اخلاقی سیاست، عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے لیے لگن آج بھی عوامی زندگی کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔ ریاست کی ترقی اور عوامی بہبود میں ان کا تعاون ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande