مدھیہ پردیش میں پیپر لیک اور بے روزگاری کے خلاف اندور سے کانگریس کی 200 کلومیٹر سائیکلوتھون شروع
۔ جیتو پٹواری سائیکل سے بھوپال روانہ، ہر ضلع سے 500 نوجوان جڑیں گے
طلبا کی گونج مہم کے تحت اندور سے کانگریس کی سائیکلوتھون شروع


جیتو پٹواری سائیکل سے بھوپال روانہ


اندور، 14 جولائی (ہ س)۔ میڈیکل داخلہ جاتی امتحان نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ دھاندلی، پیپر لیک، مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے معاملے کو لے کر مدھیہ پردیش کانگریس نے منگل کے روز اندور سے بھوپال تک دو روزہ ’جین زی سائیکلوتھون‘ کا آغاز کیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم کے تحت خود سائیکل چلا کر تقریباً 200 کلومیٹر کے یاترا (سفر) پر نکلے۔ اس دوران راستے بھر پھول مالاوں سے ان کا استقبال کیا گیا اور بڑی تعداد میں طلبا، نوجوان اور کانگریس کارکنان اس یاترا میں شامل ہوئے۔

منگل کی صبح تقریباً آٹھ بجے دیوی اہلیا یونیورسٹی کے آر این ٹی (رویندر ناتھ ٹیگور) مارگ پر واقع نالندہ کیمپس سے یاترا کا آغاز ہوا۔ سائیکلوتھون گاندھی کے مجسمے، ہائی کورٹ چوراہے، لینٹرن چوراہے، مالوا مل، بھموری، سیاجی چوراہے، وجے نگر، دیواس ناکہ، مانگلیا اور ڈکاچیا سے ہوتے ہوئے شپراپہنچی۔ اس کے بعد یہ یاترا دیواس، سیہور سے ہوتے ہوئے بدھ کے روز راجدھانی بھوپال پہنچے گا۔

کانگریس کے مطابق اندور سے بھوپال تک کے راستے میں آنے والے ہر ضلع سے تقریباً 500 سائیکل سوار اس مہم میں شامل ہوں گے۔ اندور، دیواس، سیہور اور بھوپال اضلاع کو ملا کر دو ہزار سے زیادہ سائیکل سواروں کا قافلہ بھوپال پہنچے گا۔ پہلے دن یاترا کا رات کا قیام ضلع سیہور کے آسٹا میں واقع گوکل دھام میرج گارڈن میں ہوگا۔ دوسرے دن 15 جولائی کو کوٹھری سے یاترا دوبارہ شروع ہوگی۔

کانگریس اس مہم کے ذریعے نئی نسل یعنی جین زی کو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بے روزگاری، پیپر لیک، امتحانی نظام میں شفافیت اور تعلیمی نظام جیسے مسائل آج نوجوانوں کی سب سے بڑی فکر ہیں۔ اسی مقصد سے طلبہ تنظیموں، یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی، مختلف سائیکل کلبوں اور فٹنس گروپوں کو بھی اس مہم سے جوڑا گیا ہے۔

یاترا کے آغاز کے موقع پر ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ 25 سال کی بی جے پی حکومت اور آزادی کے 80 سال بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں کے جی سے پی جی تک معیاری اور مفت تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ضرورت ہے۔ پٹواری نے کہا کہ راہل گاندھی کی ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم کا مقصد طلبا کو محفوظ اور معیاری تعلیم دلانا اور تمام مسابقتی اور پیشہ ورانہ امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ جیسے امتحانات میں سامنے آنے والی دھاندلی پورے ملک کی تشویش کا موضوع ہے اور نوجوانوں کا مستقبل محفوظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پٹواری نے الزام لگایا کہ ریاست میں پی ایس سی اور ویاپم جیسے بھرتی امتحانات میں مسلسل بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی بار پیپر لیک اور امتحانات منسوخ ہونے کے واقعات نے نوجوانوں کا بھروسہ توڑا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت ان معاملات میں موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کانگریس کے ریاستی انچارج ہریش چودھری بھی یاترا کے دوران شپرا سے مہم میں شامل ہوں گے۔ ضلع کانگریس صدر وپن وانکھیڑے اور شہر کے صدر چنٹو چوکسے نے کہا کہ یہ سائیکلوتھون صرف علامتی یاترا نہیں، بلکہ تعلیمی نظام میں شفافیت، نوجوانوں کے حقوق اور روزگار کے سوال پر عوامی بیداری کی مہم ہے۔

یاترا کے دوران ایک ٹرک کی چھت پر جیتو پٹواری کے ساتھ بڑی تعداد میں کارکن چڑھ گئے۔ بھیڑ بڑھنے پر شہر کے کانگریس صدر چنٹو چوکسے نے سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کارکنوں سے ٹرک سے نیچے اترنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد کئی کارکن نیچے اتر گئے اور یاترا آگے بڑھی۔

کانگریس کے کارگزار ضلع صدر ویویک کھنڈیلوال اور بلاک صدر گریش جوشی سائیکل پر بچوں کی گاڑی لے کر یاترا میں شامل ہوئے۔ انہوں نے اسے ریاست میں غذائیت کی کمی کے مسئلے کے تئیں بیداری کی علامت بتایا۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ سائیکلوتھون صرف احتجاجی مظاہرہ نہیں بلکہ نوجوانوں، طلبہ اور سرپرستوں سے مکالمے کی مہم ہے۔ پارٹی کے مطابق یاترا کے ذریعے پیپر لیک، بے روزگاری، تعلیم میں شفافیت اور مفت تعلیم جیسے مسائل پر عوامی حمایت حاصل کی جائے گی اور ان مطالبات کو لے کر حکومت پر دباو بنایا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande