انسانی اسمگلنگ اور لاپتہ بچوں کے معاملات پر مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے گی، جھارکھنڈ پولیس نے اضلاع سے تفصیلی رپورٹ طلب کی
رانچی، 14 جولائی (ہ س): انسانی اسمگلنگ اور لاپتہ بچوں کے معاملات کی روک تھام اور تحقیقات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے مقصد سے جھارکھنڈ پولیس نے ریاست کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ جرائم کی تحقیق سے متعلق محکمہ سی آئی ڈی نے ریاست کے تمام
انسانی اسمگلنگ اور لاپتہ بچوں کے معاملات پر مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے گی، جھارکھنڈ پولیس نے اضلاع سے تفصیلی رپورٹ طلب کی


رانچی، 14 جولائی (ہ س): انسانی اسمگلنگ اور لاپتہ بچوں کے معاملات کی روک تھام اور تحقیقات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے مقصد سے جھارکھنڈ پولیس نے ریاست کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ جرائم کی تحقیق سے متعلق محکمہ سی آئی ڈی نے ریاست کے تمام سینئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس ایس پی) اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس پی) کو مکتوب جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سی آئی ڈی کی جانب سے جاری خط کے مطابق 25 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں مشرقی زون کی زونل کنسلٹیشن میٹنگ منعقد ہوگی۔ یہ اجلاس سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی جانب سے طلب کیا گیا ہے، جس کا مقصد انسانی اسمگلنگ اور لاپتہ بچوں کے معاملات کے لیے ملک بھر میں یکساں معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) تیار کرنا ہے۔

اسی سلسلے میں سی آئی ڈی نے تمام اضلاع سے انسدادِ انسانی اسمگلنگ یونٹ (اے ایچ ٹی یو) کی موجودہ صورتحال سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔ اضلاع سے کہا گیا ہے کہ وہ یونٹ میں تعینات انسپکٹروں، سب انسپکٹروں (ایس آئی) اور کانسٹیبلوں کی تعداد، سال 2024، سال 2025 اور مئی 2026 تک درج انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کی تفصیلات، نیز بازیاب کیے گئے بچوں کی تعداد فراہم کریں۔

اس کے علاوہ اضلاع سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اختیار کیے گئے اختراعی اقدامات، مؤثر طریقۂ کار، اے ایچ ٹی یو کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق تجاویز، اور مختلف محکموں کے درمیان تال میل میں پیش آنے والی عملی مشکلات کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں۔

سی آئی ڈی کا ماننا ہے کہ اضلاع سے موصول ہونے والی تجاویز اور اعداد و شمار قومی سطح پر تیار کی جانے والی ایس او پی کو زیادہ مؤثر اور عملی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے، جس کے نتیجے میں انسانی اسمگلنگ اور لاپتہ بچوں کے معاملات میں فوری کارروائی، بہتر باہمی رابطہ، اور متاثرین کی بروقت بازیابی اور بازآبادکاری کے لیے ایک یکساں نظام وضع کیا جا سکے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande