
نیٹ پیپر لیک سمیت 23 نکاتی مطالبات کو لے کر طلبا کا شدید احتجاج، ریلی نکال کر کلکٹریٹ پہنچے، سی جے پی حامیوں نے بھی ساتھ دیا
اندور، 14 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں نیٹ پیپر لیک معاملے سمیت 23 نکاتی مطالبات کو لے کر گزشتہ 14 دنوں سے ٹنٹیا بھیل چوراہے پر دھرنا دے رہے طلبا نے منگل کے روز اپنی تحریک کو مزید تیز کر دیا۔ بڑی تعداد میں طلبا ریلی نکالتے ہوئے کلکٹریٹ پہنچے اور مین گیٹ کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر زبردست نعرے بازی اور مظاہرہ کیا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ان کے تمام مطالبات پر ٹھوس کارروائی ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔
مظاہرے میں شامل طلبا نے نیٹ پیپر لیک کے قصورواروں پر سخت کارروائی، امتحان نظام میں شفافیت اور دیگر 23 نکاتی مطالبات کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے دوران کلکٹریٹ کے احاطے کے باہر کافی دیر تک نعرے بازی ہوتی رہی۔ طلبا کی اس تحریک کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ پارٹی کے حامی اندور پہنچ کر مظاہرے میں شامل ہوئے اور طلبا کے مطالبات کی حمایت کی۔ طلبا کا کہنا ہے کہ اب تحریک کو وسیع شکل دی جا رہی ہے، تاکہ ان کی آواز حکومت و انتظامیہ تک مؤثر طریقے سے پہنچ سکے۔ بتایا گیا کہ سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے پہلے ویڈیو کال کے ذریعے احتجاجی طلبا سے بات چیت کر کے ان کا حال چال جانا اور تحریک کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
تحریک میں سی جے پی حامی راہل راٹھور بھی موجود رہے۔ انہوں نے طلبا کے مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کو لے کر وہ مسلسل بیداری مہم چلا رہے ہیں۔ راٹھور نے بتایا کہ وہ باقاعدگی سے بائک رائڈ کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف سماجی اور تعلیمی مسائل کے تئیں بیدار کرنے کا کام کرتے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد مثبت فیصلہ نہ لیا گیا، تو تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن