بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ بدھ سے نافذ ہوگا
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س): بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) 16 جولائی، بدھ سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ کئی مرحلوں پر مشتمل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے گزشتہ سال 25 جولائی کو اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ا
भारत और ब्रिटेन के लोगो का प्रतीकात्मक चित्र


نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س): بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) 16 جولائی، بدھ سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ کئی مرحلوں پر مشتمل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے گزشتہ سال 25 جولائی کو اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ کی منڈی میں بھارتی برآمدات کے تقریباً 99 فیصد مصنوعات پر صفر کسٹم ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی۔

وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے دور میں نافذ ہونے والا یہ چھٹا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ہے۔ اس سے قبل بھارت ماریشس، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، آسٹریلیا، یورپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) اور عمان کے ساتھ بھی ایسے معاہدے نافذ کر چکا ہے۔

اقتصادی امور کے ماہرین کے مطابق بھارت اور برطانیہ کے درمیان ہونے والا یہ تجارتی معاہدہ حالیہ برسوں کے اہم ترین تجارتی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس کے نفاذ سے بھارت کی تقریباً 99 فیصد برآمدات کو برطانیہ کی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔

اس معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد ملبوسات، ٹیکسٹائل، جوتے اور چپل، قالین، پراسیس شدہ غذائی مصنوعات، اناج، سبزیاں، پھل، مصالحہ جات، مچھلی، گوشت اور ان سے تیار شدہ مصنوعات برطانیہ کی منڈی میں مکمل طور پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل کر سکیں گی۔ اب تک ان مصنوعات پر برطانیہ میں 4 سے 16 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کی جاتی تھی۔

معاہدے کے مطابق بھارت، برطانیہ سے درآمد ہونے والی چاندی پر عائد کسٹم ڈیوٹی کو آئندہ دس برسوں میں مرحلہ وار ختم کر دے گا۔ برطانیہ سے بھارت درآمد کی جانے والی اہم اشیا میں چاندی بھی شامل ہے۔

ایف ٹی اے کے تحت بھارت نے برطانیہ میں تیار شدہ مکمل گاڑیوں اور ٹرکوں پر درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں کمی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس ڈیوٹی کو موجودہ 110 فیصد سے بتدریج کم کر کے 10 فیصد تک لایا جائے گا۔ کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے میں یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے آٹوموبائل کے شعبے میں اس نوعیت کا فیصلہ کیا ہے۔

اس جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کے نافذ ہونے سے گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات، مشینری، الیکٹرانکس، دھاتی مصنوعات، سیرامک، شیشہ، پتھر اور سیمنٹ سے متعلق صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ دوسری جانب برطانیہ سے درآمد ہونے والی سالمن مچھلی، لیمب (بھیڑ کا گوشت)، مشینری، الیکٹرانکس، چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس، کاسمیٹکس، صابن، پرفیوم، شیوِنگ کریم اور نیل پالش سمیت کئی مصنوعات بھارتی بازار میں سستی ہو سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande