اے ایم یو میں سرکاری زبان ہندی کے عملی اور تکنیکی پہلوؤں پر ورکشاپ
علی گڑھ, 14 جولائی (ہ س) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہندی سیل کے زیر اہتمام سرکاری زبان ہندی کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک ورکشاپ انتظامی بلاک کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی، جس میں سرکاری زبان ہندی کے عملی اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گ
پروگرام


علی گڑھ, 14 جولائی (ہ س) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہندی سیل کے زیر اہتمام سرکاری زبان ہندی کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک ورکشاپ انتظامی بلاک کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی، جس میں سرکاری زبان ہندی کے عملی اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروگرام میں یونیورسٹی کے مختلف دفاتر کے ملازمین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد سرکاری امور میں ہندی کے عملی استعمال کو فروغ دینا، جدید ٹیکنالوجی میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرنا اور سرکاری زبان کی پالیسی کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا تھا۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے کہا کہ ہندی محض اظہارِ خیال کی زبان نہیں بلکہ انتظامیہ، تعلیم، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای گورننس کے شعبوں میں بھی اپنی اہمیت مسلسل منوا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تکنیکی ذرائع کی بدولت انگریزی میں تیار شدہ دستاویزات کو ہندی میں منتقل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، جبکہ متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسپیچ ٹو ٹیکسٹ جیسی سہولتوں نے سرکاری کام کاج میں ہندی کے استعمال کو مزید سہل بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے بیشتر شعبوں میں کسی نہ کسی صورت میں ہندی کا استعمال پہلے سے ہی ہو رہا ہے۔ اگرچہ ہر فائل کا مکمل طور پر ہندی میں ہونا ضروری نہیں، تاہم ہر سرکاری فائل میں کم از کم کچھ حصہ ہندی میں ضرور ہونا چاہیے تاکہ سرکاری زبان کی پالیسی سے یونیورسٹی کی وابستگی کا اظہار ہو۔ انہوں نے افسران اور ملازمین پر زور دیا کہ وہ روزمرہ کے دفتری امور میں زیادہ سے زیادہ ہندی کا استعمال کریں اور جہاں بھی ممکن ہو اس کے بامعنی اور مستقل نفاذ کو یقینی بنائیں۔

جوائنٹ رجسٹرار محمد عارف الدین احمد نے افسران اور ملازمین سے کہا کہ ہندی کے استعمال کی سہ ماہی رپورٹس تیار کرتے وقت خصوصی احتیاط برتیں، کیونکہ ان کی درستگی مختلف شعبوں سے موصول ہونے والی معلومات پر منحصر ہوتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ رپورٹ جمع کرانے سے قبل تمام تفصیلات کی اچھی طرح جانچ کر لی جائے اور کسی بھی شبہے یا تکنیکی مسئلے کی صورت میں ہندی سیکشن یا متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ رپورٹس ہر طرح کی غلطی سے پاک ہوں۔

ہندی آفیسر اسد اللہ خاں نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انتظامی امور میں سرکاری زبان ہندی کی اہمیت اور دائرہ کار پر روشنی ڈالی۔

ریسورس پرسن محمد عاطف کلیم اور فراز احمد نے سرکاری مراسلت، ای آفس، نوٹ شیٹس، رپورٹس، ای میل اور دیگر انتظامی امور میں ہندی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے شرکاء کو معیاری ہندی، سرکاری زبان سے متعلق قواعد اور دفتری نظام میں ہندی کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے بھی آگاہ کیا۔

ورکشاپ کا اختتام سوال و جواب کے ایک تعاملی سیشن پر ہوا، جس میں ماہرین نے شرکاء کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ منتظمین نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں یونیورسٹی کے انتظامی نظام میں سرکاری زبان ہندی کے استعمال کو مزید مضبوط بنائیں گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande