
ہردا، 14 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع کے سٹی کوتوالی تھانہ علاقے میں پیر کی دیر رات ہوئے خوفناک سڑک حادثے میں تین دوستوں کی موت ہو گئی۔ تینوں نوجوان اے سی ریپیرنگ کا کام کرتے تھے اور روز کی طرح کام ختم کر کے بائک سے گھر لوٹ رہے تھے۔ اسی دوران ڈگاوانیما گاوں کے پاس فور لین پر بیتول کی سمت سے تیز رفتار میں آ رہی ایک کار نے ان کی بائک کو زوردار ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ تینوں نے جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ دیا۔
سٹی کوتوالی تھانہ انچارج روشن لال بھارتی نے بتایا کہ حادثہ پیر کی رات تقریباً 12 بجے قومی شاہراہ پر پنجتارا ریسٹورنٹ کے قریب پیش آیا۔ تینوں نوجوان ہردا کی طرف آ رہے تھے اور فور لین پار کر رہے تھے، تبھی تیز رفتار کار نے ان کی بائک کو ٹکر مار دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور تینوں کو ضلع اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ منگل کی صبح پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔
حادثے میں سندیپ ولد پرکاش کھربڑے (30) ساکن کسانی محلہ، سرالی، سنیل ولد امراو سنگھ (30) ساکن سنیاسا (موجودہ ساکن بی بی سٹی کالونی، ہردا) اور گوپال ولد دھن سنگھ راجپوت (31) ساکن گاوں سوتاڑا کی موت ہو گئی۔ سندیپ دو بھائیوں میں بڑے تھے اور اپنے پیچھے بیوی و دو سالہ بیٹے کو چھوڑ گئے ہیں۔ سنیل کی شادی تین برس پہلے ہوئی تھی۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ بچپن سے ان کی پرورش ان کے ماموں نے کی تھی اور وہ اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ ہردا میں رہتے تھے۔ گوپال بھی دو بھائیوں میں بڑے تھے اور ان کا تین ماہ کا ایک معصوم بیٹا ہے۔ وہ موجودہ وقت میں ہردا کے مدیت ہوم علاقے میں رہ کر کام کرتے تھے۔
تینوں نوجوان آپس میں گہرے دوست تھے اور طویل عرصے سے ساتھ مل کر اے سی ریپیرنگ کا کام کر رہے تھے۔ روز کی طرح کام ختم کر کے لوٹتے وقت کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد کار بے قابو ہو کر کچھ دوری پر پلٹ گئی۔ حالانکہ ڈرائیور موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔ حادثہ کا شکار کار کو پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ گاڑی میں سوار ایک شخص کو پولیس نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے، جبکہ فرار ڈرائیور کی تلاش کی جا رہی ہے۔ پولیس حادثے کے تمام پہلووں کی جانچ کر رہی ہے۔ یہ بھی پتہ لگایا جا رہا ہے کہ حادثے کے وقت بائک کی پوزیشن کیا تھی اور حادثہ کن حالات میں ہوا۔ فرار ڈرائیور کے خلاف معاملہ درج کر کے اس کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔
ایک ہی حادثے میں تین نوجوانوں کی موت سے سرالی، سنیاسا اور سوتاڑا گاوں میں غم کی لہر ہے۔ منگل کے روز پوسٹ مارٹم کے بعد جیسے ہی لاشیں گاوں پہنچیں، لواحقین کا رو رو کر برا حال ہو گیا۔ آخری دیدار کے دوران ہر آنکھ نم تھی۔ مقامی لوگوں نے تینوں کو محنتی، ملنسار اور ذمہ دار نوجوان بتاتے ہوئے اس حادثے کو ضلع کا بڑا سانحہ قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن