غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام غالب توسیعی خطبے کا انعقاد
نئی دہلی،14جولائی(ہ س)۔آج ساری دنیا میں عالمی ادب کا تصور بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ عالمی ادب کس کو کہا جائے اس کے معیار اور پیمانے کیا ہونے چاہیے اور اس کے انتخاب جیسے اہم سوالات اور اس سمت میں اقدامات کی طرف ساری دنیا متوجہ ہو رہی ہے۔ اس سلسل
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام غالب توسیعی خطبے کا انعقاد


نئی دہلی،14جولائی(ہ س)۔آج ساری دنیا میں عالمی ادب کا تصور بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ عالمی ادب کس کو کہا جائے اس کے معیار اور پیمانے کیا ہونے چاہیے اور اس کے انتخاب جیسے اہم سوالات اور اس سمت میں اقدامات کی طرف ساری دنیا متوجہ ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں مغرب میں ایک کتاب بھی مرتب ہوئی ہے جس میں اردو کی طرف سے صرف غالب نمائندگی کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر انیس الرحمن نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام غالب توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مغرب نے جہاں بہت سی باتوں سے چشم پوشی کی ہے وہیں ایسے کام بھی کیے جس کے لیے تمام ادبی دنیا کو ان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں پروفیسر فرانسس پریچٹ کا نام سر فہرست ہے جو اپنی بنائی ہوئی ویب سائٹ کو روزانہ اپڈیٹ کرتی ہیں۔ اس میں اردو سے متعلق جو مواد ہے وہ کسی دوسری سائٹ پر نہیں مل سکتا۔ غالب نے ساری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کی ہے۔ انصار اللہ نظر نے کوئی تیس برس پہلے غالب کی کتابیات مرتب کی تھی جس میں ساری دنیا میں لکھی جانے والی غالب سے متعلق کتابوں کی فہرست پیش کی تھی۔ اب اس کو بھی نئے اضافوں کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ خطبے کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انھوں نے کہا غالب توسیعی خطبہ بظاہر عام سی رسم ہے لیکن ہم اس کے انعقاد سے پہلے بہت غور و فکر اور مشورہ کرتے ہیں کہ کس شخصیت کو دعوت دی جائے تاکہ تکرار سے محفوظ رہا جا سکے۔ آج پروفیسر انیس الرحمن نے جن پہلووں کی جانب ہمیں متوجہ کیا وہ اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ ساری دنیا میں ادبیات کی سمت و رفتار اور نئے چیلنجز کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آج کے خطبے میں ہم نے نئے تقاضوں کو محسوس کیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ قومی اور بین الاقوامی سمینار کے انعقاد کے علاوہ اہم موضوعات پر توسیعی خطبات کا بھی انعقاد کرتا ہے۔ ان خطبات کے ذریعے اردو دنیا میں تحقیقی و تنقیدی رجحان کو فروغ دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ غالب توسیعی خطبے کے ذریعے ہم در اصل یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ ادب کے وہ کون سے گوشے ہیں جن کی طرف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر علم ادب سے وابستہ اہم شخصیات موجود تھیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande