جھارکھنڈ کے سابق وزیر منان ملک کا انتقال، سیاسی حلقوں میں غم کی لہر
رانچی، 14 جولائی (ہ س)۔ جھارکھنڈ کے سابق وزیر، کانگریس کے سینئر لیڈر اور ریاستی سیاست میں ایک تجربہ کار شخصیت منان ملک کا منگل کی صبح انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 83 برس تھی۔ انہوں نے رانچی کے باریاتو کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ کافی عرصے سے
منان


رانچی، 14 جولائی (ہ س)۔ جھارکھنڈ کے سابق وزیر، کانگریس کے سینئر لیڈر اور ریاستی سیاست میں ایک تجربہ کار شخصیت منان ملک کا منگل کی صبح انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 83 برس تھی۔ انہوں نے رانچی کے باریاتو کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور زیر علاج تھے۔

منان ملک کے انتقال کی خبر نے جھارکھنڈ سمیت دھنباد اور بہار کانگریس میں غم کی لہر دوڑادی ہے۔ کانگریس قائدین، عوامی نمائندوں، سماجی تنظیموں اور ان کے حامیوں نے ان کے انتقال کو ریاستی سیاست اور عوامی زندگی کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

اپنی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے، جھارکھنڈ کی وزیر برائے زراعت، حیوانات اور کوآپریٹیو، شلپی نیہا ترکی نے کہا کہ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر، سابق وزیر اور تنظیم کا ایک مضبوط ستون منان ملک کا انتقال انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے اپنی پوری سیاسی زندگی معاشرے اور عام لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی ۔ ان کے انتقال سے کانگریس نے ایک تجربہ کار، سرشار اور مقبول رہنما کھو دیا ہے - ایسا نقصان جسے پورا نہیں کیا جا سکتا۔

شلپی نیہا ترکی نے کہا کہ ملک کی عوامی زندگی سادگی، عوامی خدمت اور سماجی کاموں سے وابستگی کی روشن مثال تھی۔ انہوں نے دعا کی کہ خدا مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان، خیر خواہوں اور معاونین کو اس مشکل وقت میں صبر جمیل عطا فرمائے۔

اس دوران،بیرمو ایم ایل اے کمار جے منگل کی اہلیہ اور دھنباد لوک سبھا سیٹ کے لیے کانگریس کی سابق امیدوار انوپما سنگھ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر منان ملک کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ محترم منان ملک - جھارکھنڈ کے سابق وزیر، دھنباد کے سابق ایم ایل اے اور بہت سے لوگوں کے سرپرست اوررہنما کے انتقال کی خبر دل کو دہلا دینے والی تھی۔ انہوں نے دعا کی کہ خدامرحوم کو اپنے قدموں میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ سابق وزیر کے انتقال کے بعد کانگریس کارکنوں اور حامیوں میں غم کی لہر دوڑگئی ہے ہے۔ لوگ انہیں ایک سادہ، قابل رسائی اور ملنسار رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں جنہوں نے عوامی مفاد کے مسائل کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے دھنباد کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور طویل عرصے تک کانگریس کی تنظیم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پارٹی نے برسوں تک ان کے سیاسی تجربے اور تنظیمی ذہانت سے فائدہ اٹھایا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande