
جموں، 14 جولائی(ہ س)۔
دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے جموں کے ایک نیوز پورٹل کے بانی و مدیر وجے گپتا کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ وجے گپتا کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مبینہ منی لانڈرنگ اور خود کو وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کا بااثر افسر ظاہر کرکے لوگوں سے کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج دھیریندر رانا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کی دفعہ 45 کے تحت ضمانت کے لیے درکار شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے اسے باقاعدہ ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ای ڈی کے مطابق وجے گپتا نے 2016 سے 2026 کے دوران خود کو پی ایم او کا افسر ظاہر کرکے مختلف افراد کو ان کے کام کرانے کا جھانسہ دیا اور اس طریقے سے چار کروڑ روپے سے زائد رقم حاصل کی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس نے اسی عرصے میں 26 غیر ملکی دورے کیے، جن میں کئی دورے وزیر اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کے ساتھ ہوئے، تاکہ خود کو بااثر سرکاری شخصیت کے طور پر پیش کر سکے۔ اس نے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ اپنی تصاویر بھی استعمال کیں تاکہ لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔
ای ڈی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنے بینک کھاتوں میں 4.06 کروڑ روپے نقد جمع کرائے، لیکن اس رقم کو اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔عدالت نے کہا کہ ملزم کے رہا ہونے کی صورت میں شواہد سے چھیڑ چھاڑ، گواہوں کو متاثر کرنے اور اسی نوعیت کے مزید جرائم کے ارتکاب کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔عدالت نے دل کے عارضے کی بنیاد پر ضمانت دینے کی درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملزم کی طبی حالت مستحکم ہے اور اسے مناسب علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ وجے گپتا کو ای ڈی نے 20 مئی کو گرفتار کیا تھا اور اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر