اکھل گوگوئی نے وزیراعلیٰ پر 'بنگلہ دیشیوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کرنے کا ڈرامہ' رچنے کا الزام لگایا
گوہاٹی، 14 جولائی (ہ س)۔ رائجور دل کے سربراہ اور سیوا ساگر کے ایم ایل اے اکھل گوگوئی نے مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کی ملک بدری کے سلسلے میں پیر کو آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنتا بسوا سرما پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل
سکھل


گوہاٹی، 14 جولائی (ہ س)۔ رائجور دل کے سربراہ اور سیوا ساگر کے ایم ایل اے اکھل گوگوئی نے مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کی ملک بدری کے سلسلے میں پیر کو آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنتا بسوا سرما پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل میں قانونی جواز کا فقدان ہے اور بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ نان ایشو کو سیاسی ایشو میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے لیے پہنچنے کے دوران ایوان کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے، اکھل نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار قائم کیے بغیر غیر قانونی امیگریشن پر بحث کو زندہ رکھنے کے لیے پش بیک ایشو کا استعمال کر رہے ہیں۔

گوگوئی نے کہا، ہیمنتا بسوا سرما وہ شخص ہیں جو نان ایشوز کو ایشوز میں بدل دیتے ہیں۔ غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کا مسئلہ صرف بنگلہ دیش کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ آج تک، آسام حکومت نے اپنے ہم منصب (بنگلہ دیش حکومت) کے ساتھ کوئی دو طرفہ بات چیت نہیں کی ہے اور نہ ہی غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو ملک بدر کرنے کا کوئی طریقہ کار قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آسام میں غیر قانونی امیگریشن ایک بڑی تشویش بنی ہوئی ہے، حکومت کی ملک بدری کی حکمت عملی میں قانونی حمایت کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا، وزیراعلیٰ نے 'ملک بدری' کی حکمت عملی کے ذریعے اس مسئلے کو بھڑکانے کا ایک من گھڑت طریقہ تلاش کیا ہے جس میں کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ میں حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر بنگلہ دیش کے ساتھ بات چیت کرے اور کسی معاہدے پر پہنچے۔ ایک بڑے ملک کے طور پر، ہندوستان کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بنگلہ دیش اس وقت ہندوستانی حراست میں موجود تمام غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو واپس لے۔

آسام میں چھ برادریوں کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے دیرینہ مطالبہ کا حوالہ دیتے ہوئے، گوگوئی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس انتخابی وعدے کی یاد دلائی جو انہوں نے 2016 میں بونگائیگاو¿ں میں ایک ریلی میں کیا تھا۔

انہوں نے کہا، اب 2026 ہے اور وزیر اعظم مودی نے تائی-آہوم، سوتیا، موران، مٹک، کوچ-راجبونگشی اور چائے قبیلہ (آدیواسی) برادریوں کو ایس ٹی کا درجہ دینے کا وعدہ کیے ہوئے 11 سال گزر چکے ہیں۔ میں وزیر اعظم کو اس وعدے کی یاد دلانا چاہتا ہوں۔

حکومت کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہ ایک کمیٹی معاملے کی جانچ کر رہی ہے، گوگوئی نے دلیل دی کہ مزید کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ان برادریوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ایس ٹی کا درجہ دینے کا ایک بل 2019 میں دوبارہ پیش کیا گیا تھا۔ حکومت کو بس وہی بل لانے اور اپنا وعدہ پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر بات کرتے ہوئے، گوگوئی نے ان کی بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کیا اور مرکز سے مداخلت کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا، وانگچک کی حالت خراب ہو گئی ہے۔ ہندوستانی عوام نہیں چاہتی کہ ان کے ساتھ کچھ برا ہو۔اگر کچھ ہوا تو اس سے پورے ملک میں بدامنی پھیل جائے گی۔

گوگوئی نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم مودی متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پرباربار امتحانی پیپر لیک ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیںہٹانے کا مطالبہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande