
اہل خانہ میں خوشی کی لہر، طویل قانونی پیروی کے لیے صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود مدنی کا شکریہ ادا کیانئی دہلی، 14 جولائی(ہ س)۔ شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) افسر انکت شرما قتل کے مشہور مقدمے میں چھ سال کی طویل قانونی کارروائی کے بعد کڑکڑڈوما کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے جہاں پانچ ملزموں کو قصوروار قرار دیا، وہیں چھ مسلم نوجوانوں کو تمام الزامات سے باعزت بری کردیا، جس سے ان کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس مقدمے میں جمعیة علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر ایڈووکیٹ عبدالغفار نے چار ملزموں کی جانب سے عدالت میں پیروی کی جن میں سے دو ملزم فیروز اور سمیر کو عدالت نے تمام الزامات سے باعزت بری کردیا۔ ان کے علاوہ حسین عرف ملا جی عرف سلمان، گلفام، شعیب عالم عرف بابی اور منتظم عرف موسیٰ کو بھی عدالت نے باعزت بری کیا ہے۔اس سلسلے میں جمعیةعلماءہند کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ عبدالغفار نے بتایا کہ اس میں مجموعی طور پر گیارہ افراد ملزم بنائے گئے جن میں سے عدالت نے چھ افراد کو تمام الزامات سے باعزت بری کردیا ہے جب کہ باقی کے پاس بھی ہائی کورٹ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ہے۔
واضح رہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اگلے روز 25 فروری کو 26 سالہ انٹیلی جنس بیورو اہلکار انکت شرما لاپتہ ہوگئے اور 26 فروری کو ان کی لاش کھجوری خاص کے ایک نالے سے برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم میں ان کے جسم پر متعدد زخم پائے گئے۔ ان کے والد کی شکایت پر سابق ایم سی ڈی کونسلر طاہر حسین کو مقدمے کا کلیدی ملزم بنایا گیا، پولس نے باقی دس لوگوں کو بھی ملزم بنایا۔ یہ مقدمہ دہلی فسادات کے سب سے حساس اور زیر بحث مقدمات میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ایسے معاملات میں جہاں اصل مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دینا ضروری ہے، وہیں بے قصور افراد کو سزا سے بچانا اور انہیں منصفانہ سماعت و مو¿ثر قانونی دفاع فراہم کرنا بھی بنیادی آئینی تقاضا ہے۔ اسی اصول کے تحت جمعیة علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر وکلاءکی ایک ٹیم نے چار ملزموں کی قانونی پیروی کی جن میں فیروز اور سمیر کی باعزت بریت اس طویل قانونی جدوجہد کا اہم نتیجہ ہے۔
دہلی فسادات کو چھ سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جمعیة علماءہند آج بھی 200 ٹرائل مقدمات میں قانونی پیروی کررہی ہے، جبکہ جمعیة کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں ہنوزسو سے زائد افراد باعزت بری ہوچکے ہیں۔ ان مقدمات کی نگرانی جمعیة علماءہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی کی قیادت میں وکلاءکی ایک ٹیم کررہی ہے۔ دوسری جانب جمعیةعلماءہند نے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں دہلی فسادات سے متاثرہ خاندانوں کی بازا?بادکاری اور بحالی کے لیے بھی وسیع پیمانے پر خدمات انجام دی ہیں۔ بری ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے اس موقع پر صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس طویل قانونی جدوجہد میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور ہر دکھ سکھ میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ، ہم ان کے بہت شکر گزار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais