
ایوت محل کے نیر میں 108 ایمبولینس سروس کی تاخیر نے نوجوان کی جان لی، بروقت علاج نہ ملنے پر موت
ایوت محل، 14 جولائی (ہ س)۔ ریاستی حکومت نے سڑک حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے مقصد سے 108 ایمبولینس سروس شروع کی تھی، جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ایوت محل ضلع کے نیر تعلقہ میں یہ سروس بری طرح متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اتوار کی صبح پیش آئے ایک سڑک حادثے میں بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ایک نوجوان کی موت ہو گئی، جس کے بعد 108 ایمبولینس سروس کے کام کاج پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔پولیس اور مقامی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثے میں جان گنوانے والے نوجوان کی شناخت شیخ شعیب الیاس کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اتوار کی صبح تقریباً چھ بجے اپنے گاؤں سے بکرے خریدنے کے لیے اسپلینڈر موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ اسی دوران نیر۔داروہا روڈ پر قبرستان کے قریب ایک تیز رفتار بھاری گاڑی نے اس کی موٹر سائیکل کو زوردار ٹکر مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔حادثے کے بعد مقامی افراد نے زخمی کو فوری طور پر اسپتال پہنچانے کے لیے 108 ایمبولینس سروس سے تقریباً دس مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کسی کال کا جواب نہیں ملا اور ایمبولینس بھی موقع پر نہیں پہنچی۔ بعد ازاں زخمی کو مقامی ذرائع سے نیر دیہی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے مزید علاج کے لیے ایوت محل روانہ کیا گیا، لیکن راستے ہی میں اس نے دم توڑ دیا۔شکایت کے مطابق جائے حادثہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ میں ایم ایچ 34 بی زیڈ 0893 نمبر کا ایک ٹرک اس مقام سے گزرتا ہوا دکھائی دیا، جس کی اطلاع پولیس کو دے دی گئی ہے۔ پولیس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق دیہی علاقوں میں 108 ایمبولینس سروس خصوصاً حاملہ خواتین اور ہنگامی مریضوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، لیکن حادثے کے وقت دستیاب ایمبولینس میں آکسیجن کی پائپ بھی پھٹی ہوئی تھی۔ بتایا گیا کہ عملے نے کسی طرح پائپ کے سوراخ کو انگلی سے بند کر کے زخمی کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کی۔ عام طور پر 108 ایمبولینس میں ہنگامی طبی سہولیات، ضروری طبی آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتا ہے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر 108 ایمبولینس بروقت موقع پر پہنچ جاتی اور مناسب ہنگامی طبی امداد فراہم کی جاتی تو ممکن ہے شیخ شعیب الیاس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد نیر تعلقہ میں 108 ایمبولینس سروس کی کارکردگی اور دستیابی کو بہتر بنانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے