سرحدی سیاحت نے کشمیر کے کئ علاقوں میں نئی جان ڈال دی
سرینگر، 12 جولائی (ہ س) شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ واقع علاقے اب سیاحوں کو اپنے قدیم مناظر، بھرپور ثقافت اور روایتی طرز زندگی کا تجربہ کرنے کے لیے اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، سرحدی سیاحت وادی میں مسلسل ایک نئی کشش کے طور پر ا
سرحدی سیاحت نے کشمیر کے کئ علاقوں میں نئی جان ڈال دی


سرینگر، 12 جولائی (ہ س) شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ واقع علاقے اب سیاحوں کو اپنے قدیم مناظر، بھرپور ثقافت اور روایتی طرز زندگی کا تجربہ کرنے کے لیے اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، سرحدی سیاحت وادی میں مسلسل ایک نئی کشش کے طور پر ابھر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گریز کی دلکش وادیوں سے لے کر کیرن، مژھل، ٹنگڈار اور اُوڑی کے سرحدی بستیوں تک، سیاح کشمیر کے روایتی مقامات سے آگے بڑھ کر ایسے پرسکون مقامات کی تلاش میں ہیں جو قدرتی حسن پیش کرتے ہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ محکمہ سیاحت اور فوج کی طرف سے سیاحتی تقریبات اور آؤٹ ریچ پروگراموں کے ذریعے ان غیر معمولی مقامات کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں نے انہیں کشمیر کے سیاحتی نقشے پر لانے میں مدد کی ہے۔ رہائشیوں نے بتایا کہ وادی کے قائم کردہ سیاحتی مقامات کے برعکس، سرحدی علاقے سیاحوں کو مقامی خاندانوں کے ساتھ رہنے، روایتی کھانوں کا مزہ لینے، مقامی رسم و رواج کا مشاہدہ کرنے اور زندگی کی سست رفتار کا تجربہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے روزی روٹی کے نئے مواقع پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں، جس میں مقامی لوگوں نے ہوم اسٹے، ریستوراں، ٹرانسپورٹ سروسز اور چھوٹے کاروبار کھولے ہیں ۔ گریز کے ایک رہائشی نذیر احمد نے کہا کہ سیاح زندگی کی سادگی اور علاقے کی منفرد ثقافتی شناخت کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں کچھ مختلف تجربہ کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ہماری روایات، مہمان نوازی اور قدرتی ماحول سیاحوں پر دیرپا تاثر چھوڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس شعبے کی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر انفراسٹرکچر اور بہتر سیاحتی سہولیات کی ضرورت پر زور دیا۔ کرناہ سے تعلق رکھنے والے محمد اسماعیل نے کہا کہ سیاحوں کی آمد میں اضافے سے خطے میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں، اب بہت سے خاندان براہ راست سیاحت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اُوڑی کے ایک رہائشی عبدالغفار نے کہا کہ سرحدی دیہات میں سیاحت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور انہوں نے اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں زیادہ سرمایہ کاری پر زور دیا۔ہمارے گھر سیاحوں کے لیے کھلے ہیں، اور ہم ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جس سے مقامی لوگوں کے لیے مواقع پیدا کرتے ہوئے ان علاقوں کو ترقی دینے میں مدد ملے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir


 rajesh pande