
جموں, 12 جولائی (ہ س) لداخ میں انتظامی اصلاحات کے تحت لیفٹیننٹ گورنر نے 17 نئی تحصیلوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں تحصیلوں کی مجموعی تعداد 15 سے بڑھ کر 32 ہو گئی ہے۔ اس اقدام کو 2019 میں لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنائے جانے کے بعد ریونیو انتظامیہ کی سب سے بڑی تنظیمِ نو قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق نئی انتظامی تقسیم کا مقصد ہر ریونیو گاؤں کو ایک ہی تحصیل کے دائرہ اختیار میں لانا اور ہر تحصیل کو ایک ہی ضلع سے منسلک کرنا ہے، تاکہ سابقہ انتظامی اور دائرہ اختیار کے مسائل کا خاتمہ ہو سکے۔ اس فیصلے سے انتظامی نظام کو مؤثر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے اور دور دراز و سرحدی علاقوں کے لوگوں تک سرکاری سہولیات آسانی سے پہنچانے میں مدد ملے گی۔
نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت ضلع لیہہ میں پانچ، کرگل میں سات، چانگ تھانگ میں چار، نوبرا میں چھ، زنسکار میں چار، شام میں پانچ جبکہ دراس میں ایک تحصیل قائم ہوگی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ اور خوشحال لداخ کے وژن کے مطابق اٹھایا گیا ہے، جس کا تصور 2019 میں لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ کا درجہ ملنے کے بعد پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ نئی انتظامی ساخت سے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تیزی آئے گی، عوامی خدمات کی فراہمی مزید مؤثر ہوگی اور بالخصوص دور افتادہ اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو سرکاری سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے سے مقامی طرزِ حکمرانی مضبوط ہوگی، انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور لداخ کی سماجی و اقتصادی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر