جموں و کشمیر سے متعلق فیصلے ملک کے دارالحکومت میں نہیں ہو سکتے تو پھر کہاں ہوں گے۔عمر عبداللہ
جموں, 12 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے میں ہونے والی تاخیر کے خلاف پارٹی 20 جولائی سے نئی دہلی میں احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔اتوار
Omer


جموں, 12 جولائی (ہ س)۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے میں ہونے والی تاخیر کے خلاف پارٹی 20 جولائی سے نئی دہلی میں احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔اتوار کو ہری سنگھ پارک جموں میں مادرِ مہربان بیگم اکبر جہاں عبداللہ کی برسی کے موقع پر منعقدہ کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اسمبلی انتخابات کے بعد تقریباً دو برس تک صبر و تحمل کے ساتھ مرکز سے مذاکرات کیے، لیکن ریاستی درجے کی بحالی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو کافی وقت دیا گیا، مگر اب نئی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جموں و کشمیر سے متعلق فیصلے ملک کے دارالحکومت میں نہیں ہو سکتے تو پھر کہاں ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی دہلی میں مجوزہ احتجاج پر تنقید کر رہی ہے، حالانکہ نیشنل کانفرنس صرف اسی وعدے کی تکمیل کا مطالبہ کر رہی ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی نے کٹرا میں کیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس مشاہدے کا بھی حوالہ دیا کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہیے۔

عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کر کے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ ملک کا ساتھ دیا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں قربانیاں پیش کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جمہوری اور پُرامن طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور 20 جولائی کا احتجاج ریاستی درجے کے مطالبے کے حق میں تحریک کا آغاز ہوگا۔اس موقع پر بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان موجود تھے جنہوں نے احتجاجی تحریک کی حمایت کا اظہار کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande