ناندوربار کے سرکاری ہاسٹل میں کھانا کھانے کے بعد چالیس طلبہ کی طبیعت بگڑی
ممبئی، 12 جولائی(ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناندوربار ضلع کے شہادا میں محکمہ سماجی بہبود کے زیرانتظام ایک سرکاری ہاسٹل میں رات کا کھانا کھانے کے بعد کم از کم چالیس طلبہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ واقعے کے بعد انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی اور متاثرہ طلبہ کو فوری
ناندوربار کے سرکاری ہاسٹل میں کھانا کھانے کے بعد چالیس طلبہ کی طبیعت بگڑی


ممبئی، 12 جولائی(ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناندوربار ضلع کے شہادا میں محکمہ سماجی بہبود کے زیرانتظام ایک سرکاری ہاسٹل میں رات کا کھانا کھانے کے بعد کم از کم چالیس طلبہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ واقعے کے بعد انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی اور متاثرہ طلبہ کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ طلبہ میں سے پچیس طلبہ کو قے اور پیٹ میں شدید درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ان میں سے بیس طلبہ کا علاج شہادا کے دیہی اسپتال میں جاری ہے، جبکہ پانچ طلبہ کو آکسیجن کی کمی اور بلڈ پریشر میں خرابی پیدا ہونے کے باعث انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا۔ضلع کلکٹر ڈاکٹر متالی سیٹھی نے بتایا کہ اسپتال میں زیر علاج تمام پچیس طلبہ کی حالت مستحکم ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ ابتدائی طبی معائنے میں طلبہ میں فوڈ پوائزننگ اور گیسٹرائٹس کی علامات پائی گئی ہیں، تاہم بیماری کی اصل وجہ جاننے کے لیے کھانے اور قے کے نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔اس واقعے کے بعد ہاسٹل کے انتظام و انصرام اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جب طلبہ کی طبیعت بگڑی تو ذمہ دار عملے کے بعض ارکان موقع پر موجود نہیں تھے، جس کے بعد ممکنہ غفلت کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹرمتالی سیٹھی نے اسپتال پہنچ کر متاثرہ طلبہ کی عیادت کی اور ان کی صحت کا جائزہ لیا۔ ضلع انتظامیہ نے پورے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ کھانا کن حالات میں تیار کیا گیا اور کس طریقے سے طلبہ کو پیش کیا گیا۔حکام کے مطابق اس وقت صورتحال قابو میں ہے اور زیادہ تر متاثرہ طلبہ جلد صحت یاب ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبارٹری رپورٹ اور تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande