
پٹنہ ،12جولائی(ہ س)۔ بہار کی راھدنی پٹنہ کے راجندر نگر ریلوے یارڈ کوچنگ احاطہ میں اتوار کی صبح زبردست آگ لگ گئی، جس سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھوئیں کے گہرے بادل دور دور سے دکھائی دے رہے تھے اور آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 15 فائر انجن کو لگایا گیا تھا ۔ فائر فائٹر نے آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے گھنٹوں پانی کا مسلسل چھڑکاؤ کیا۔ آگ کی شدت نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو مشکل بنا دیا۔ حالانکہ کافی کوششوں کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے آگ پر قابو پالیا جس سے بڑی تباہی ٹل گئی۔ واقعے کے بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ مقامی پولیس نے بھیڑ کو جائے وقوعہ سے دور رکھا تاکہ بچاؤ اور امدادی کاموں میں کسی قسم کی خلل نہ پڑے۔ ریلوے حکام نے بھی صورتحال کا جائزہ لیا اور نقصان کا اندازہ لگانا شروع کردیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے سے لاکھوں روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آگ کن حالات کی وجہ سے لگی۔ آگ لگنے کی وجہ معمہ بنی ہوئی ہے۔ شبہ ہے کہ فنی خرابی، شارٹ سرکٹ یا کوئی اور وجہ حادثہ پیش آیا ہو تاہم اس کی باضابطہ تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوسکے گی۔
جائے وقوعہ پر موجود فائر فائٹر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ کو آس پاس کے علاقوں تک پھیلنے سے روک دیا۔ آگ پر بروقت قابو نہ پایا جاتا تو نقصان بہت زیادہ ہوسکتا تھا۔ آگ بجھانے کے بعد بھی آگ کو دوبارہ بھڑکانے سے روکنے کے لیے کولنگ آپریشن کافی دیر تک جاری رہا۔ فی الحال ریلوے انتظامیہ اور مقامی پولیس پورے واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حادثے نے ایک بار پھر ریلوے احاطے میں فائر سیفٹی اور ہنگامی تیاریوں کے بارے میں اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب سب کی نظریں تحقیقاتی رپورٹ پر ہیں جس سے اس آگ کے پیچھے کا راز کھل سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan