ونایک راؤت، ان کے اہل خانہ کے خلاف بہو کی ذہنی ہراسانی، جادو ٹونے اور ازدواجی زندگی سے متعلق سنگین الزامات، سات افراد کے خلاف مقدمہ درج
تھانے، 12 جولائی (ہ س)۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ ونایک راؤت، ان کے بیٹے اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر گیتیش راؤت سمیت خاندان کے دیگر افراد کے خلاف مجموعی طور پر سات افراد پر تھانے کے کپورباوڑی پولیس
Crime Maha Vinayak Raut Case


تھانے، 12 جولائی (ہ س)۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ ونایک راؤت، ان کے بیٹے اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر گیتیش راؤت سمیت خاندان کے دیگر افراد کے خلاف مجموعی طور پر سات افراد پر تھانے کے کپورباوڑی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ونایک راؤت کی بہو گیریجا راؤت کی شکایت پر درج کیا گیا ہے، جس میں گھریلو ہراسانی کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کے جادو ٹونا مخالف قانون کے تحت بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے ایک مبینہ جعلی بابا کو بھی گرفتار کیا ہے۔ شکایت میں گیریجا راؤت نے اپنی ازدواجی زندگی، ذہنی اذیت اور سسرال والوں کے رویے سے متعلق کئی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

شکایت کے مطابق ساس شیامل راؤت شوہر کی غیر موجودگی میں ان کے ساتھ مختلف طریقوں سے ناروا سلوک کرتی تھیں، مسلسل طعنے دیتی تھیں، میکے والوں کی توہین کرتی تھیں اور میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ گیریجا راؤت نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر گیتیش راؤت ان کی ماہواری کی تاریخیں موبائل فون میں محفوظ رکھتے تھے اور ونایک راؤت کے سیاسی پروگراموں میں رکاوٹ نہ آئے، اس مقصد سے ان پر ماہواری مؤخر کرنے والی دوائیں استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ شادی کے بعد اوٹی میں سیر کے دوران چھ دن تک شوہر نے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کیے۔ جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ذہنی ہم آہنگی کو ضروری قرار دیتے ہوئے بات ٹال دی۔ بعد ازاں ایک مندر میں درشن کے دوران عوام کے سامنے توہین آمیز زبان استعمال کر کے ان کی بے عزتی کی گئی۔ شکایت میں یہ بھی الزام ہے کہ شوہر عوامی مقامات پر بھی وقت، حالات اور ان کے جذبات کا خیال رکھے بغیر بار بار جھگڑا کرتے تھے۔

گیریجا راؤت نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کا مؤقف تھا کہ ازدواجی تعلقات صرف بیرون ملک ہی قائم کیے جا سکتے ہیں اور ہندوستان میں وہ اس کے لیے خود کو آمادہ محسوس نہیں کرتے تھے۔ گھر میں بھی مختلف بہانے بنا کر قربت سے گریز کیا جاتا تھا۔ اس مسلسل رویے کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں، جس کے بعد دونوں نے ماہرِ نفسیات سے علاج بھی کرایا، تاہم ان کے مطابق شوہر نے علاج میں تعاون نہیں کیا۔ بعد ازاں جنسی صحت اور امراضِ نسواں کے ماہرین سے بھی مشورہ لیا گیا۔ ڈاکٹروں نے قدرتی حمل سمیت مختلف متبادل طریقے تجویز کیے، لیکن شوہر نے صرف آئی وی ایف پر اصرار کیا اور گھر پر ہی متعلقہ عمل انجام دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ مخالفت کرنے پر گالی گلوچ اور دھمکیاں دی گئیں۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تمام معاملات سے خاندان کے افراد کو آگاہ کیا گیا تھا، مگر صورتحال بہتر بنانے کے بجائے طبی مشوروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں لگائے گئے تمام الزامات فی الحال شکایت کنندہ کے دعوے ہیں اور ان کی حقیقت پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

دوسری جانب سابق رکن پارلیمنٹ ونایک راؤت نے اپنے اور اپنے خاندان پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیتیش اور گیریجا گزشتہ تین برس سے ایک ساتھ نہیں رہ رہے ہیں۔ اگر شکایت کے مطابق واقعات 2018 میں پیش آئے تھے تو پھر 2026 میں شکایت درج کرانے کی وجہ کیا ہے، اس میں ہی کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔

ونایک راؤت نے مزید دعویٰ کیا کہ طلاق کا مقدمہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے اور گیریجا راؤت نے ہر ماہ پانچ لاکھ روپے خرچ، دس کروڑ روپے اضافی رقم، دو کروڑ روپے ذہنی ہرجانے، پانچ کمروں پر مشتمل مکان اور ایک آٹومیٹک گاڑی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جب یہ مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو یہ شکایت درج کرائی گئی۔ انہوں نے جادو ٹونے اور مبینہ توہم پرستانہ رسومات سے متعلق تمام الزامات کی بھی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان ایسی کسی روایت یا عقیدے سے وابستہ نہیں ہے اور وہ اس معاملے میں عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande