جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے زچگی کی چھٹی کے معاملے پر حکومت کے حکم کو منسوخ کیا
جموں, 12 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ زچگی کی چھٹی خواتین کا آئینی حق ہے، اسے ریاست کی مہربانی یا رعایت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ یہ حق خواتین کے وقار اور مساوات سے جڑا ہوا ایک ناقابلِ
Jk Highcurt


جموں, 12 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ زچگی کی چھٹی خواتین کا آئینی حق ہے، اسے ریاست کی مہربانی یا رعایت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ یہ حق خواتین کے وقار اور مساوات سے جڑا ہوا ایک ناقابلِ تنسیخ آئینی حق ہے۔عدالت نے 14 اکتوبر 2025 کے اس حکومتی حکم نامے کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت زچگی کی چھٹی پر رہنے والی بعض خواتین ڈاکٹروں کی تنخواہیں اور الاؤنس روک دیے گئے تھے۔ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر سوناکشی گپتا اور دیگر خواتین ڈاکٹروں کی عرضی منظور کرتے ہوئے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ہدایت دی کہ انہیں زچگی کی رخصت کی مدت اور اس کے باعث بڑھنے والی مدت کے لیے مکمل تنخواہ اور تمام واجبات ادا کیے جائیں۔

خواتین ڈاکٹروں نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے اس بنیاد پر ان کی تنخواہیں روک دی تھیں کہ وہ زچگی کی چھٹی کے دوران فرائض انجام نہیں دے رہی تھیں۔ عدالت نے اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زچگی کی رخصت کے دوران تنخواہ روکنا خواتین کے لیے قائم کیے گئے ایک اہم سماجی تحفظ کے انتظام کو معاشی سزا میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زچگی ایک فطری انسانی کیفیت ہے اور اس کے باعث خواتین کو کسی بھی طرح سزا دینا ایک حساس اور فلاحی ریاست کے اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ زچگی کی چھٹی کا مقصد خواتین اور نومولود بچوں کی صحت و بہبود کا تحفظ ہے، اس لیے اس حق کو محدود یا سزا کا سبب نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande