
لندن، 11 جولائی (ہ س)۔ سربیا کے قدآور ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے جمعہ کو ومبلڈن 2026 کے سیمی فائنل میں عالمی نمبر ایک اٹلی کے جینیک سنر سے سیدھے سیٹوں میں ہارنے کے باوجود ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔ 39 سالہ سربین اسٹار نے واضح کیا کہ وہ اب بھی ٹینس کھیلنا چاہتے ہیں اور اگلے سال ومبلڈن میں واپسی کی امید رکھتے ہیں۔
سات بار ومبلڈن چمپئن جوکووچ نے سنٹر کورٹ سے نکلتے ہی کھڑے ہو کر داد وصول کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ 40 سال کی عمر میں اگلے سال ومبلڈن کے 150ویں ایڈیشن میں کھیلیں گے، تو انہوں نے کہا، ’ میں کم از کم ایک بار اور واپس آنا چاہوں گا۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘
اس شکست کے ساتھ جوکووچ ریکارڈ 25 واں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے اور اپنے 39 ویں گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچنے کا خواب پورا نہیں کر سکے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ سیمی فائنل تک ان کا سفر ثابت کرتا ہے کہ وہ اب بھی دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا،’ یقینامیں مایوس ہوں، میں ومبلڈن جیتنا چاہتا تھا اور اسی لیے میں اب بھی خود کو اتنی محنت کرنے کی ترغیب دیتا ہوں، لیکن اس ٹورنامنٹ میں کورٹ پر میرا رویہ، میرا لڑنے کا جذبہ اور میری لگن مثبت رہی، یہ سب کچھ اب بھی میرے اندر موجود ہے۔‘
جوکووچ کی نظریں اب 2026 میں یو ایس اوپن پر ہوں گی۔ انہوں نے 2023 میں یو ایس اوپن میں اپنا آخری اور 24 واں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتا تھا۔ اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں انہوں نے کہا،’ میں کھیلنے کے لیے کسی دباو میں نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی مجھے کھیلنے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ میں اس لیے کھیلتا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ میں اب بھی ٹاپ 10 یا ٹاپ 5 سطح کا کھلاڑی ہوں اور آگے مستقبل کیا لے کر آتا ہے یہ دیکھیں گے۔‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan