
ریواڑی، 11 جولائی (ہ س)۔
ریواڑی شہر کے ہنس نگر میں گیس کے دھماکے میں شدید جھلس جانے والے سابق فوجی ستبیر چوہان کی ہفتہ کو دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی۔ اس کی بیٹی، تنو، اس سے قبل 9 جولائی کی شام کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھی۔ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد اب دو ہو گئی ہے۔ ماڈل ٹاو¿ن پولیس اسٹیشن نے اندرا پرستھ گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل) ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
متاثرہ کی بیوی مدھو نے پولیس سے کی گئی اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ جب حادثہ پیش آیا تو وہ برتن رکھنے کے لیے کچن میں گئی تھی۔ باہر نکل کر دیکھا تو پورا گھر آگ کی لپیٹ میں تھا۔ اس کی بیٹی تنو، شوہر ستبیر چوہان، دو سالہ بھتیجی اور پڑوسی جے بھگوان دھماکے میں بری طرح جھلس گئے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ آئی جی ایل ٹیسٹنگ کے دوران کھلی پائپ لائن کی وجہ سے گیس جمع ہوئی جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں بھی حادثے کی وجہ گیس کے اخراج کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم آئی جی ایل کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات میں نیا موڑ آگیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ستبیر چوہان کی بیٹی تنو کو جمعہ کو ان کے آبائی گاو¿ں ٹنکری میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ تنو تقریباً 90 فیصد جھلس چکی تھی۔ ستبیر چوہان تقریباً 70 فیصد، پڑوسی جئے بھگوان 60 فیصد اور دو سالہ بچی 50 فیصد سے زیادہ جھلس گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ