
پربھنی، 11 جولائی (ہ س)۔ اکھل بھارتیہ کسان سبھا کی جانب سے کسان قرض معافی اسکیم میں عائد سخت شرائط ختم کرنے اور تمام کسانوں کو بلا امتیاز مکمل قرض معافی دینے کے مطالبے پر ہفتہ کے روز پاتھری تحصیل دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں کامریڈ دیپک لپنے، کامریڈ بھارت گائیکواڑ، کامریڈ بلی رام ورہاڑے، کامریڈ بھاسکر یادو، کامریڈ بھارت پھُکے، کامریڈ امباداس سالوے سمیت کسان سبھا کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے۔احتجاج کے بعد وزیراعلیٰ اوروزیر زراعت کے نام ایک مطالباتی میمورنڈم تحصیلدار کے حوالے کیا گیا۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا کہ قرض معافی کے لیے دو لاکھ روپے کی حد ختم کرتے ہوئے تمام اہل کسانوں کو مکمل قرض معافی کا فائدہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا کہ 2019 کی قرض معافی اسکیم سے محروم رہ جانے والے کسانوں کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا جائے، باقاعدگی سے قرض ادا کرنے والے کسانوں پر عائد سخت شرائط ختم کی جائیں، اور کوآپریٹو شعبے کے ملازمین نیز مقامی خود اختیاری اداروں کے عوامی نمائندوں کو بھی قرض معافی اسکیم میں شامل کیا جائے۔احتجاجی کسانوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کھیتی اور زرعی معاون کاروبار کے لیے لیے گئے قرضوں کو بھی قرض معافی اسکیم میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح مائیکرو فائنانس، سونے کو رہن رکھ کر حاصل کیے گئے قرضوں اور زراعت سے متعلق دیگر تمام قرضوں کو بھی قرض معافی کے دائرے میں لایا جائے۔ میمورنڈم میں کہا گیا کہ قرض معافی اسکیم پر عائد سخت شرائط کی وجہ سے ریاست کے لاکھوں کسان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت نے کسانوں کا سات بارہ کورا کرنے، یعنی زرعی زمین کو قرض سے پاک بنانے کا جو وعدہ کیا تھا، اسے فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ کسانوں کو حقیقی راحت مل سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے