ندا خان سے متعلق تبصروں پر ہندو جن جاگرتی سمیتی کا شدید ردعمل
ممبئی ، 11 جولائی (ہ س )۔ ہندو جن جاگرتی سمیتی کے قومی ترجمان رمیش شندے نے کہا ہے کہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، تاہم کارپوریٹ جہاد معاملے کی ملزمہ ندا خان کے حمل کا موازنہ بھگوان شری کرشن کی پیدائش سے کیا جانا انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ
Politics Maha Corporate Jihad


ممبئی ، 11 جولائی (ہ س )۔ ہندو جن جاگرتی سمیتی کے قومی ترجمان رمیش شندے نے کہا ہے کہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، تاہم کارپوریٹ جہاد معاملے کی ملزمہ ندا خان کے حمل کا موازنہ بھگوان شری کرشن کی پیدائش سے کیا جانا انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے، جس سے کروڑوں ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

رمیش شندے نے کہا کہ الزام ہے کہ مذکورہ ملزمہ تقریباً چالیس دن تک مفرور رہی، عدالتی کارروائی کا احترام نہیں کیا اور تفتیش میں بھی تعاون نہیں کیا۔ ان پر ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے دفتر میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کو جنسی ہراسانی، ذہنی اذیت پہنچانے اور زبردستی مذہب تبدیل کرانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بے قصور ہندو خواتین پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے اور متاثرہ خواتین کی آواز دبانے کے بھی الزامات ہیں۔ ان تمام معاملات پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندو مذہبی روایات کے مطابق یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ دیوکی کے آٹھویں بیٹے کے ہاتھوں کنس کا خاتمہ ہوگا، جس کے خوف سے کنس نے دیوکی اور وسودیو کو قید کر دیا تھا۔ ایسے میں اس مقدمے کا موازنہ بھگوان شری کرشن کی پیدائش سے کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ناسک پولیس کا بالواسطہ طور پر کنس سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی مذہبی تشبیہوں سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے تفتیشی ایجنسیوں کا حوصلہ متاثر ہو سکتا ہے اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات بھی مجروح ہو سکتے ہیں۔

رمیش شندے نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مقدمے میں ملزمہ کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی 2024 کی پرزن اسٹیٹسٹکس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی جیلوں میں قید مجموعی قیدیوں میں تقریباً 4.1 فیصد خواتین ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار پانچ سو سینتیس خواتین اپنے ایک ہزار سات سو چونسٹھ بچوں کے ساتھ جیلوں میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف مغربی بنگال میں ہی 2024 کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران عدالتی حراست میں رہتے ہوئے باسٹھ خواتین قیدیوں نے بچوں کو جنم دیا۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کارپوریٹ جہاد کے اس مقدمے میں ملزمہ کے ساتھ الگ اور خصوصی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے، جبکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہندو جن جاگرتی سمیتی کو عدلیہ پر مکمل احترام اور اعتماد ہے، تاہم عدالتی مشاہدات میں ایسی مذہبی تشبیہوں سے اجتناب کیا جانا چاہیے جو عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں یا غیر ضروری تنازع پیدا کریں۔ سمیتی نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر حکومت اس ضمانت کے حکم کا قانونی جائزہ لے اور ضرورت پڑنے پر اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande