جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں بیس برسوں کے دوران اوسط درجۂ حرارت میں تقریباً ایک ڈگری سیلسیس اضافہ
جموں, 11 جولائی (ہ س)۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگپور کی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں اوسط درجۂ حرارت تقریباً ایک ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے، جبکہ بلند پہاڑی علاقوں میں گرمی کی
Glacier


جموں, 11 جولائی (ہ س)۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگپور کی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں اوسط درجۂ حرارت تقریباً ایک ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے، جبکہ بلند پہاڑی علاقوں میں گرمی کی رفتار نسبتاً زیادہ رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق بھدرواہ، پہلگام اور گلمرگ جیسے پہاڑی مقامات میں درجۂ حرارت میں اضافہ جموں جیسے کم بلندی والے علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین نے اس رجحان کو بلندی کے ساتھ درجۂ حرارت میں اضافے کا نام دیا ہے، جس کے تحت اونچے علاقے میدانی خطوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ بعض درمیانی بلندی والے علاقوں میں درجۂ حرارت میں فی دہائی 0.3 ڈگری سیلسیس تک اضافہ ہوا، جبکہ مانسون سے پہلے کے موسم میں رات کے درجۂ حرارت میں فی دہائی 0.6 ڈگری سیلسیس تک بڑھ گئے۔ سائنس دانوں کے مطابق رات کے وقت درجۂ حرارت میں اضافہ خاص طور پر تشویش ناک ہے کیونکہ اس سے برف اور گلیشیئروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری قدرتی ٹھنڈک میں کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ برف کے سکڑنے سے زمین کی تاریک سطح زیادہ شمسی حرارت جذب کرتی ہے، جس سے گرمی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فضا میں نمی کی بڑھتی ہوئی مقدار بھی زمین کے قریب حرارت کو زیادہ دیر تک برقرار رکھ رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی آ سکتی ہے اور سیلاب، زمین کھسکنے اور طویل مدتی آبی قلت کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ محققین نے حساس پہاڑی آبادی کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے موسمی نگرانی کو مضبوط بنانے، مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے اور بروقت پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande